تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش کے چیف الیکشن کمشنر اے ایم ایم ناصر الدین نے سرکاری ٹیلی ویژن نشریات میں اعلان کیا کہ ملک میں عام انتخابات آئندہ سال 12 فروری کو منعقد ہوں گے۔ اسی دن ایک تاریخی جمہوری اصلاحاتی چارٹر پر ریفرنڈم بھی کرایا جائے گا۔

واضح رہے کہ 170 ملین آبادی کا یہ مسلم اکثریتی ملک اگست 2024 میں حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے شدید سیاسی بحران کا شکار ہے، جو ان کی 15 سالہ حکمرانی کے اختتام کے بعد ہوا۔ اِس دوران ان کی جماعت عوامی لیگ پر عام انتخابات میں حصہ لینے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

نگراں حکومت کی قیادت نوبل امن انعام یافتہ محمد یونس کر رہے ہیں، جو عوامی مظاہروں کے مطالبے پر اگست 2024 میں جلاوطنی سے واپس آئے تھے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ انتخابات مکمل ہونے کے بعد وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔

دوسری جانب بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کو انتخابات میں مضبوط امیدوار سمجھا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق بی این پی کی سربراہ اور تین بار وزیر اعظم رہنے والی خالدہ ضیاء کی کامیابی کے امکانات زیادہ بتائے جا رہے ہیں، تاہم وہ اس وقت ڈھاکہ میں انتہائی نگہداشت میں زیرِ علاج ہیں۔

خالدہ ضیاء کے بیٹے اور سیاسی وارث طارق رحمان  جنہیں بنگلہ دیش میں طارق ضیا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، وہ گزشتہ 17 سال سے برطانیہ میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان پر مختلف مقدمات اور سیاسی دباؤ کے باعث وطن واپسی کے راستے بند رہے ہیں۔

60 سالہ طارق رحمان کا کہنا ہے کہ وہ سیاسی انتقام اور ظلم و ستم کے خوف سے ملک چھوڑ گئے تھے۔ 

انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ انتخابات میں حصہ لیں گے اور اگلے وزیراعظم کے لیے مضبوط امیدوار ہوں گے، تاہم وہ اپنی بیمار والدہ سے ملاقات کے لیے بھی اب تک ڈھاکہ واپس نہیں آئے۔