اس وقت بنگلہ دیش ایک عبوری حکومت کے زیرِ انتظام ہے، جس کی قیادت نوبل انعام یافتہ محمد یونس کر رہے ہیں۔ اس ماہ ہونے والے انتخابات میں اقتدار کے لیے دو بڑی جماعتیں مقابلے میں ہیں: بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور جماعتِ اسلامی (جے آئی بی)، جنہوں نے جنوری کے آخر میں انتخابی مہم کا آغاز کیا تھا۔
تاریخی طور پر بھارت کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے والی عوامی لیگ کو انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا ہے کیوں کہ 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے خلاف اس جماعت نے سخت کریک ڈاؤن کیا تھا۔
شیخ حسینہ اس وقت 78 سال کی ہیں اور بھارت میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔ انہیں مظاہرین کے خلاف مہلک طاقت کے استعمال کی اجازت دینے کا مجرم قرار دیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں تقریباً 1,400 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
گزشتہ نومبر بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے انہیں
غیر حاضری میں سزائے موت سنائی، تاہم بھارت نے اب تک انہیں بنگلہ دیش کے حوالے
کرنے سے انکار کیا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، حسینہ کی معزولی کے بعد بنگلہ دیش کی جغرافیائی سیاست میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔
بھارت کے ساتھ تعلقات تاریخی طور پر کم ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں، جبکہ پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر ہوئے ہیں اور چین کے ساتھ اسٹریٹجک روابط مزید مضبوط ہو گئے ہیں۔
حسینہ کے 15 سالہ دور میں بھارت کے ساتھ قریبی تعلقات، پاکستان سے سفارتی دوری اور چین کے ساتھ محتاط مگر مضبوط شراکت داری نمایاں رہی، لیکن اب یہ رجحانات تبدیل ہو رہے ہیں۔
تو سوال یہ ہے کہ بھارت، پاکستان اور چین ان انتخابات کو کس نظر سے دیکھ رہے ہیں، اور کیا ان کے لیے انتخابی نتائج اہم ہیں؟
بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات
حسینہ کی معزولی سے قبل بھارت بنگلہ دیش کو جنوبی ایشیا میں ایک اہم اسٹریٹجک اتحادی سمجھتا تھا۔ بھارت بنگلہ دیش کا ایشیا میں سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بھی ہے۔
تاہم حسینہ کے بھارت فرار ہونے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی پابندیاں لگائی گئی ہیں، اور تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت چاہتا ہے کہ آئندہ حکومت اس کے ساتھ تعاون کرے اور انتہا پسند عناصر کے اثر سے محفوظ رہے۔
پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات
حسینہ کی معزولی کے بعد پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔ پاکستانی وزیرِاعظم شہباز شریف نے محمد یونس سے ملاقاتیں کیں اور دفاعی و سفارتی تعلقات مضبوط کرنے پر زور دیا۔
فروری 2024 میں دونوں ممالک کے درمیان 1971 کے بعد پہلی بار براہِ راست تجارت بحال ہوئی، جبکہ گزشتہ ہفتے 14 سال بعد براہِ راست پروازیں بھی شروع ہوئیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان بنگلہ دیش کے ساتھ دفاعی اور ثقافتی تعلقات مضبوط کر کے بھارت پر اسٹریٹجک دباؤ بڑھانا چاہتا ہے۔







