شہریوں کی بڑی تعداد ہفتے کی دوپہر 12 بجے کے بعد پارلیمنٹ کی عمارت کے علاقے میں جمع ہو گئی۔ صبح سے ہی پارلیمنٹ کے سامنے والی سڑک پر ٹریفک روک دی گئی تھی۔
نماز جنازہ میں عام شہریوں کے ساتھ مشاورتی کونسل کے اراکین اور مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما بھی پارلیمنٹ کے احاطے میں پہنچے۔ پارلیمنٹ اور آس پاس کی سڑکوں پر فوج اور بارڈر گارڈ بنگلہ دیش (بی جی بی) سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے افسران تعینات تھے۔ پولیس نے چوکیاں قائم کر کے لوگوں کی تلاشی لی۔
عثمان ہادی کو ڈھاکہ یونیورسٹی کے احاطے میں قومی شاعر قاضی نذر الاسلام کے مقبرے میں دفن کیا جائے گا۔
عثمان ہادی انڈیا کے ناقدین میں شمار ہوتے تھے اور انھیں گذشتہ ہفتے ڈھاکہ میں اُس وقت نشانہ بنایا گیا تھا جب وہ ایک مسجد سے باہر نکل رہے تھے۔ چہرہ ڈھانپے ہوئے نامعلوم حملہ آوروں نے اُن پر فائرنگ کی، جس کے بعد انہیں علاج کے لیے سنگاپور لے جایا گیا، تاہم جمعرات کو وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گئے۔
دوسری جانب عثمان ہادی کی ہلاکت کے بعد بنگلہ دیش میں پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ جمعے کی شب لکشمی پور کے بھوانی گنج میں مبینہ طور پر شرپسندوں نے ایک مقامی بی این پی لیڈر کے گھر کو آگ لگا دی، جس میں ایک بچہ ہلاک اور تین افراد زخمی ہو گئے۔







