13ویں قومی پارلیمنٹ کے نومنتخب ارکان نے ڈھاکا میں واقع پارلیمنٹ ہاؤس میں حلف لیا۔ تقریب حلف برداری میں اعلیٰ سرکاری حکام، سیاسی رہنما اور غیر ملکی سفارت کار شریک ہوئے۔ نئی کابینہ کی حلف برداری کی تقریب آج شام منعقد ہوگی، جس میں وزیراعظم اور وفاقی وزرا اپنے عہدوں کا حلف اٹھائیں گے۔
🚨#NewsAlert | ढाका, बांग्लादेश : बीएनपी (Bangladesh Nationalist Party-BNP) के चेयरमैन तारिक रहमान ने प्रधानमंत्री पद की शपथ ली। @trahmanbnp | @bdbnp78 | #Dhaka | #Bangladesh | #TariqueRahman | #BNP | #OathCeremony | #BangladeshPolitics pic.twitter.com/0S2Jg48bjX
— यूनीवार्ता (@univartaindia1) February 17, 2026
یہ پیش رفت عوامی لیگ کے 17 سالہ دورِ اقتدار کے خاتمے کے تقریباً ڈیڑھ سال بعد سامنے آئی ہے۔ اس عرصے کے دوران ملک میں عبوری انتظامیہ قائم رہی، جس نے عام انتخابات کے انعقاد اور اقتدار کی منتقلی کے مراحل مکمل کیے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق نئی پارلیمنٹ کا قیام ملک میں جمہوری تسلسل کے لیے اہم سنگِ میل ہے۔
پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے چیئرمین طارق رحمان نئی حکومت کی قیادت کریں گے۔ ارکان کے حلف کے بعد اکثریتی جماعت اپنا پارلیمانی لیڈر منتخب کرے گی، جسے صدر آئینی تقاضوں کے مطابق حکومت بنانے کی دعوت دیں گے۔
اطلاعات تھیں کہ نومنتخب ارکان پارلیمانی حلف کے ساتھ مجوزہ آئینی اصلاحاتی کونسل کے رکن کی حیثیت سے بھی الگ حلف اٹھائیں گے، تاہم مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات کے باعث اس حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ بی این پی کے سینیئر رہنما صلاح الدین احمد نے کہا ہے کہ آئینی ترمیم اور قانونی تقاضے مکمل ہونے کے بعد ہی اصلاحاتی کونسل کے قیام کا عمل آگے بڑھایا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق نئی کابینہ میں تجربہ کار سیاستدانوں، نوجوان قیادت اور ماہرین پر مشتمل ٹیم شامل کیے جانے کا امکان ہے تاکہ انتظامی اصلاحات، معاشی استحکام اور گورننس میں بہتری لائی جا سکے۔ انتخابی وعدوں کی تکمیل، مہنگائی پر قابو پانے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کو نئی حکومت کی ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے۔
بی این پی کے سیکریٹری جنرل مرزا فخر الاسلام عالمگیر سمیت کئی سینیئر رہنماؤں کو اہم وزارتیں ملنے کی توقع ہے۔ سیاسی حلقوں میں کابینہ کی تشکیل اور اہم قلمدانوں کی تقسیم کے حوالے سے مشاورت جاری ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس اور اس کے اطراف سخت سیکیورٹی نافذ کر دی گئی ہے۔ اہم شاہراہوں پر ٹریفک محدود کیا گیا جبکہ سی سی ٹی وی نگرانی، اضافی پولیس نفری اور خصوصی سیکیورٹی دستے تعینات کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تقریب کے دوران امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کی گئی ہے۔
نئے وزیراعظم کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لیے مختلف ممالک کی اہم شخصیات ڈھاکا پہنچ چکی ہیں، جن میں مالدیپ کے صدر محمد معیزو، بھوٹان کے وزیراعظم شیرنگ توبگے، بھارت کی لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا اور پاکستان کے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال شامل ہیں۔
عبوری قیادت کی جانب سے پاکستان، بھارت، چین، سعودی عرب اور ملائیشیا سمیت 13 ممالک کے سربراہان کو بھی مدعو کیا گیا تھا، جس سے اس تقریب کی بین الاقوامی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق نئی حکومت کو معاشی چیلنجز، سیاسی استحکام اور علاقائی تعلقات میں توازن جیسے اہم معاملات کا سامنا ہوگا۔ عوامی حلقوں میں توقع کی جا رہی ہے کہ منتخب قیادت ملک کو استحکام اور ترقی کی نئی راہ پر گامزن کرے گی۔







