بنگلہ دیشی اخبار ڈھاکہ ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق متوقع وزیر اعظم طارق رحمان کی حلف برداری کی تقریب 17 فروری کو منعقد ہونے کا امکان ہے، جبکہ اس کا انتظام عبوری حکومت کی جانب سے کیا جائے گا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرنے کے بعد بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے حکومت سازی کا باضابطہ عمل شروع کر دیا ہے۔ پارٹی دو تہائی سے زائد نشستیں حاصل کر کے نئی حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ گئی ہے۔

تقریب میں شرکت کے لیے سارک رکن ممالک کے علاوہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے سربراہانِ حکومت کو بھی دعوت دینے کی تیاری جاری ہے۔ ڈھاکہ ٹریبیون سے گفتگو کرتے ہوئے بی این پی کے جوائنٹ سیکریٹری جنرل (خارجہ امور) ہمایوں کبیر نے کہا کہ وہ کسی مخصوص ملک کا نام نہیں لے رہے، تاہم پارٹی کی جانب سے سارک اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے سربراہان کو مدعو کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

پارٹی ذرائع کے مطابق بی این پی اس تقریب میں غیر ملکی معزز شخصیات کی شرکت کو یقینی بنا کر اپنی سفارتی ترجیحات کا اظہار کرنا اور علاقائی تعاون کو فروغ دینا چاہتی ہے۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ نئی حکومت اپنی خارجہ پالیسی میں جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ تعلقات کو خصوصی اہمیت دے گی۔

یاد رہے کہ انتخابی کامیابی کے بعد میڈیا سے پہلی گفتگو میں طارق رحمان نے دو دہائیوں بعد جماعت کی اقتدار میں واپسی کو اہم قرار دیتے ہوئے معیشت کی بحالی، امن و امان کے قیام اور گڈ گورننس کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیا تھا۔

ہفتہ کو میڈیا بریفنگ کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ملک کو سنگین چیلنجز درپیش ہیں، معیشت کو مستحکم کرنا اور بہتر طرزِ حکمرانی کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی جمہوریت اور ان لوگوں کی جیت ہے جنہوں نے جمہوری عمل کے لیے جدوجہد کی۔

معیشت کی بحالی سے متعلق سوال پر طارق رحمان نے کہا کہ وہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دے کر نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے پر توجہ دیں گے۔