وہ علاج کے لیے سنگاپور منتقل کیے گئے تھے جہاں جمعے کے روز وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جانبر نہ ہو سکے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سنگاپور کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ڈاکٹروں کی بھرپور کوششوں کے باوجود شریف عثمان ہادی کو بچایا نہ جا سکا۔
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے 15 دسمبر کو قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہونے کے بعد شریف عثمان ہادی کو علاج کے لیے سنگاپور بھیجا تھا۔ اس سے قبل گزشتہ جمعے کو دارالحکومت ڈھاکہ میں ایک مسجد سے نکلتے وقت نقاب پوش حملہ آوروں نے ان پر فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں انہیں کان میں گولی لگی تھی۔
یہ واقعہ اس اعلان کے ایک دن بعد پیش آیا تھا جب حکام نے طلبہ کی قیادت میں ہونے والی تحریک کے بعد پہلے انتخابات کی تاریخ کا اعلان کیا تھا۔ اسی تحریک کے نتیجے میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی طویل آمرانہ حکومت کا خاتمہ ہوا تھا۔
شریف عثمان ہادی طلبہ کی احتجاجی تنظیم انقلاب منچا کے سینیئر رہنما تھے اور وہ بھارت کی پالیسیوں کے سخت ناقد سمجھے جاتے تھے۔
پیر کے روز ڈھاکہ میں سینکڑوں افراد نے فائرنگ کے واقعے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ گزشتہ دو دنوں سے بنگلہ دیش کے مختلف شہروں میں شریف عثمان ہادی پر حملے اور بھارت کی جانب سے شیخ حسینہ واجد کو بنگلہ دیش کے حوالے نہ کیے جانے کے خلاف بھی احتجاج جاری ہے۔
عثمان ہادی کو قومی انتخابات میں ڈھاکا ہی سے مضبوط امیدوار تصور کیا جارہا تھا۔ وہ انتخابی مہم ہی کیلیے جارہے تھے جب انہیں گولی ماری گئی۔
بنگلادیشی حکام کا کہنا ہے کہ قاتل کی شناخت فیصل کریم مسعود کے نام سے کی گئی ہے جبکہ موٹرسائیکل چلانے والے کی شناخت عالمگیر شیخ کے نام سے کی گئی۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہےکہ دونوں مشتبہ افراد بھارت کی سرحد سے غیر قانونی طور پر داخل ہوئے تھے اور بھارت ہی فرار ہوگئے۔
واقعہ میں ابتک چودہ افراد کو گرفتار کرکے ان سے تفتیش کی جارہی ہے۔







