غیرملکی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق آسٹریلوی پولیس نے کہا ہے کہ حملہ آوروں نے گزشتہ ماہ فلپائن کا سفر بھی کیا تھا، جس کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
آسٹریلوی فیڈرل پولیس کی کمشنر کرسّی بیریٹ کا کہنا تھا کہ ابتدائی شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ یہ حملہ اسلامی ریاست سے متاثرہ دہشت گردانہ کارروائی تھی، جس میں ایک باپ اور اس کا بیٹا ملوث ہیں۔ یہ اقدام کسی مذہب کی نمائندگی نہیں کرتے بلکہ دہشت گرد تنظیم سے وابستہ افراد کی جانب سے کیے گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق 50 سالہ ساجد اکرم فائرنگ کے بعد ہلاک ہو گئے، جب کہ ان کا 24 سالہ بیٹا نوید اکرم بھی حملے میں شامل تھا اور اب بھی ہسپتال میں انتہائی تشویشناک حالت میں ہے۔
Australian PM says ISIS ideology drove the Bondi Beach attackers
— Catch Up (@CatchUpFeed) December 16, 2025
Some reports indicate Canberra’s top spy agency had one of the attackers on its radar for six years. pic.twitter.com/6raPZwTQvX
تحقیقاتی ٹیم کے مطابق باپ اور بیٹے نے سینکڑوں افراد پر فائرنگ کی، جو تقریباً 10 منٹ تک جاری رہی اور یہ واقعہ آسٹریلیا کے مشہور سیاحتی مقام پر پیش آیا۔
غیرملکی نشریاتی ادارے کے رپورٹر وین ہی کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی گاڑی سے دو آئی ایس آئی ایل کے گھریلو جھنڈے اور ایک آئی ای ڈی برآمد ہوئی۔ ان کا فلپائن کا حالیہ سفر بھی تحقیقات کا حصہ ہے، تاہم ابھی مقصد واضح نہیں ہے۔
نیو ساؤتھ ویلز پولیس کمشنر مال لینون نے بتایا کہ فلپائن میں یہ سفر کس مقصد کے لیے اور کہاں کیا گیا، اس کی تحقیقات جاری ہیں۔ فلپائن پولیس بھی اس معاملے میں تعاون کر رہی ہے۔
فلپائن کے جنوبی علاقوں میں آئی ایس آئی ایل سے وابستہ مسلح گروہ موجود ہیں، اگرچہ ان کی طاقت پچھلے برسوں میں کم ہو چکی ہے، لیکن چھوٹے گروہ اب بھی مینڈاناوٰ جزیرے میں فعال ہیں۔
یاد رہے کہ بونڈائی بیچ کا یہ حملہ تقریباً تین دہائیوں میں آسٹریلیا کا سب سے مہلک ماس شوٹنگ واقعہ ہے، جس میں تقریباً 25 افراد زخمی بھی ہوئے، جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک ہے۔







