آسٹریلیا کے میڈیا نے گذشتہ روز سڈنی کے ساحل بونڈائی پر فائرنگ کر کے 15 افراد کو ہلاک کرنے والے حملہ
آوروں کی شناخت 50 سالہ ساجد اکرم اور اس کے 24 سالہ بیٹے نوید اکرم کے طور پر کی ہے۔ ساجد اکرم جائے وقوعہ پر ہی ہلاک ہو گئے تھے جبکہ نوید تشویشناک حالت میں ہسپتال میں زیر علاج ہے۔
ان دونوں حملہ آوروں کے متعلق اب تک دستیاب معلومات کے مطابق ساجد اکرم 1998 میں سٹوڈنٹ ویزا پر آسٹریلیا پہنچے تھے جسے 2001 میں پارٹنر ویزا میں تبدیل کر دیا گیا۔ بعد ازاں انھیں ریزیڈنٹ ریٹرن ویزے جاری کیے گئے۔
ساجد اکرم کے پاس شکار کے لیے اسلحہ لائسنس تھا اور وہ ایک گن کلب کے ممبر بھی تھے۔
دوسرے حملہ آور نوید اکرم آسٹریلیا میں پیدا ہوئے تھے۔ نوید اکرم پہلی مرتبہ 2019 میں آسٹریلوی حکام کی نظروں میں آئے تھے۔ تاہم آسٹریلین وزیرِ اعظم انتھونی البانیز کے مطابق، اس وقت ان کی جانچ پڑتال کرنے والوں کو نہیں لگا کہ ان سے کوئی خطرہ ہے یا وہ کسی پرتشدد کارروائی میں ملوث ہو سکتے ہیں۔
آسٹریلوی نشریاتی ادارے اے بی سی کی رپورٹ کے مطابق نوید اکرم کے سڈنی میں قائم نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے دہشت گرد سیل سے تعلقات کے شبہے میں جانچ پڑتال کی گئی تھی۔
اے بی سی کا کہنا کہ انسداد دہشت گردی پولیس کا خیال ہے کہ حملہ آوروں نے نام نہاد دولتِ اسلامیہ سے وفاداری کا عہد کیا تھا۔
پولیس کا خیال ہے کہ حملہ آوروں نے بونڈائی ساحل سے 30 منٹ کی دوری پر ایک پراپرٹی مختصر مدت کے لیے کرایے پر تھی جہاں انھوں نے حملے کی منصوبہ بندی کی۔
قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے گذشتہ رات بونڈائی سے تقریباً ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع حملہ آوروں کے خاندانی گھر پر بھی چھاپہ مارا ہے۔ ان کی ایک پڑوسی نے بی بی سی کو بتایا کہ جب انھوں نے فائرنگ کی خبر دیکھی تو انھوں نے سوچا ’اوہ میرے خدا، یہ وہ نہیں ہو سکتے۔
دوسری جانب حملے میں مرنیوالے دیگر افراد کی تفصیلات بھی سامنے آگئی ہیں۔ اس حملے میں مارے والے افراد وہاں یہودیوں کے تہوار ہنوکا کی پہلے دن کی تقریب میں شامل ہونے آئے تھے۔
حکام نے تصدیق کی ہے مرنے والوں میں ایک 10 سالہ بچی بھی شامل ہے۔ مقامی میڈیا نے اس کی شناخت مٹلڈا کے نام سے کی ہے۔ ارینا گڈہیو مٹلڈا کی سابقہ ٹیچر ہیں اور وہ لڑکی کی ماں کے لیے فنڈ اکٹھا کرنے کا کر رہی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ مٹلڈا کو ’ایک خوش مزاج اور پرجوش بچی کے طور پر جانتی تھیں جو اپنے آس پاس ہر کسی کے لیے روشنی کی ایک کرن کی مانند تھی۔
ہارمونی رشین سکول آف سڈنی نے بھی تصدیق کی کہ مٹلڈا ان کی سکول کی طالبہ تھی۔
مزید پڑھیں: سڈنی فائرنگ واقعہ افسوسناک، حملہ آور کو روکنے والا شہری حقیقی ہیرو ہے: امریکی صدر
41 سالہ ایلی شلانگر بونڈائی کے راہب کے طور پر بھی جانے جاتے تھے، شلانگر اتوار کے روز منعقدہ ہنوکا کی تقریب کے منتظمین میں سے ایک تھے۔ برطانوی نژاد راہب کی موت کی تصدیق ان کے کزن راہب زلمان لوئس نے کی۔ شلانگر کے پانچ بچے تھے۔
فرانسیسی شہری ڈین الکیم کی موت کی تصدیق فرانس کے وزیر خارجہ جین نول بیروٹ نے کی ہے، الکیم کے لنکڈ ان پروفائل کے مطابق، این بی سی یونیورسل کے لیے آئی ٹی تجزیہ کار کے طور پر کام کر رہے تھے اور گذشتہ سال ہی آسٹریلیا آئے تھے۔
الیگزینڈر کلیٹ مین ہولوکاسٹ سے بچ جانے والوں میں شامل تھے۔ وہ یوکرین سے آسٹریلیا آئے تھے۔ الیگزینڈر کی اہلیہ لاریسا کلیٹ مین نے اتوار کو سڈنی کے ایک ہسپتال کے باہر صحافیوں کو بتایا، ’میرا کوئی شوہر نہیں ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ ان کی لاش کہاں ہے۔ کوئی بھی مجھے کوئی جواب نہیں دے سکتا۔‘
انھوں نے بتایا کہ جب فائرنگ شروع ہوئی تو سب نیچے جھک گئے۔ ان کے مطابق، اس وقت الیگزینڈر ان کے پیچھے تھے۔ ’ایک ہی لمحے میں انھوں نے میرے قریب آنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے اپنے جسم کو اوپر کیا کیونکہ وہ میرے قریب رہنا چاہتے تھے۔‘







