یہ منصوبہ آٹھ ماہ پر مشتمل ایک کثیر مرحلہ عمل پر مبنی ہے، جس میں ہتھیاروں کے خاتمے کو اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی پاسداری، انسانی امداد کی فراہمی اور غزہ کی تعمیرِ نو سے مشروط کیا گیا ہے۔
اس منصوبے کا ذکر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی کیا گیا جہاں متعلقہ فریقین پر زور دیا گیا کہ وہ اسے فوری طور پر قبول کریں۔
منصوبے کے تحت ابتدائی دو ہفتوں میں مکمل جنگ بندی نافذ کی جائے گی، انسانی امداد کی بحالی یقینی بنائی جائے گی اور ایک فلسطینی قومی کمیٹی کو غزہ میں داخل ہو کر انتظامی اور سکیورٹی امور سنبھالنے کی اجازت دی جائے گی۔
اس کے بعد دوسرے مرحلے میں، جو 16 سے 60 دنوں پر مشتمل ہوگا، حماس اور دیگر گروہ بھاری ہتھیاروں کو ختم کرنے کا عمل شروع کریں گے، جب کہ 90 دن کے اندر زیرِ زمین سرنگوں کو بھی ختم کرنا ہوگا۔
اس دوران اسرائیل پر لازم ہوگا کہ وہ عارضی رہائشی یونٹس کی تعمیر کی اجازت دے تاکہ بے گھر افراد کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
Gaza: Thousands of men, women and children have been killed. A place in ruins. Followed by a corporate sales pitch at WEF Davos of a land grab monstrosity built on the same site with the likes of Tony Blair & Jared Kushner on the “board of peace” and Donald Trump as the “Chairman… pic.twitter.com/TUO9yQQZii
— James Melville 🚜 (@JamesMelville) March 26, 2026
منصوبے کے اگلے مراحل میں نگرانی کمیٹی کی تصدیق کے بعد اسرائیلی افواج کا بتدریج انخلا شروع ہوگا، جب کہ فلسطینی قومی کمیٹی کے ماتحت سکیورٹی فورسز تمام ہتھیار جمع کرنے کی ذمہ داری سنبھالیں گی۔
اگر 251 دنوں کے اندر یہ عمل مکمل ہو جاتا ہے تو غزہ میں مکمل تعمیرِ نو کی اجازت دے دی جائے گی اور اسرائیل تقریباً مکمل طور پر انخلا کرے گا، البتہ ایک محدود سکیورٹی دائرہ باقی رہ سکتا ہے۔
تاہم اس منصوبے کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ حماس پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ اسرائیلی قبضے کے خاتمے تک ہتھیار ڈالنا ممکن نہیں، جب کہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں اور امدادی پابندیوں نے فریقین کے درمیان اعتماد کو مزید کمزور کیا ہے۔
فلسطینی ماہرین اس منصوبے کو حماس کی سیاسی حیثیت کے خاتمے کے مترادف قرار دے رہے ہیں، کیونکہ اس کے نتیجے میں غزہ کا کنٹرول ایک نئی قومی کمیٹی کے پاس چلا جائے گا۔ ایسے میں اگرچہ یہ منصوبہ امن کی ایک ممکنہ راہ فراہم کرتا ہے، لیکن زمینی حقائق اور باہمی عدم اعتماد اس کی کامیابی کو غیر یقینی بنا رہے ہیں۔







