فیسٹس موگائے نے 1998 سے 2008 تک بوٹسوانا کی قیادت کی اور اچھی طرزِ حکمرانی، معاشی استحکام اور ایچ آئی وی/ایڈز کے خلاف مؤثر اقدامات کے باعث عالمی سطح پر شہرت حاصل کی۔
وہ ملک کے تیسرے صدر تھے اور اپنی آئینی مدت مکمل کرنے کے بعد اقتدار پُرامن طریقے سے نائب صدر ایان خامہ کے حوالے کیا، جسے بوٹسوانا کے سیاسی استحکام کی اہم مثال قرار دیا جاتا ہے۔
بوٹسوانا کے موجودہ صدر ڈوما بوکو نے اپنے بیان میں کہا کہ قوم ایک ایسے رہنما سے محروم ہو گئی ہے جس نے پوری زندگی عوام اور ملک کی خدمت کے لیے وقف کر رکھی تھی۔
21 اگست 1939 کو سیرَوے میں پیدا ہونے والے فیسٹس موگائے نے برطانیہ میں تعلیم حاصل کی اور 1966 میں بوٹسوانا کی آزادی کے بعد سرکاری خدمات میں شامل ہوئے۔
وہ وزیر خزانہ اور نائب صدر بھی رہے، بعد ازاں صدر کیٹومائل مسائر کے مستعفی ہونے کے بعد ملک کے صدر بنے۔
مزید پڑھیں: سی این این کے بانی ٹیڈ ٹرنر 87 برس کی عمر میں انتقال کر گئے
اپنے دورِ حکومت میں انہوں نے معیشت کو مستحکم کیا اور ایچ آئی وی/ایڈز کے خلاف افریقہ کے جامع ترین پروگرامز میں سے ایک شروع کیا، اُس وقت جب بوٹسوانا دنیا میں اس مرض سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل تھا۔
2008 میں انہیں قیادت، استحکام اور خوشحالی کے فروغ پر معروف ابراہیم پرائز سے بھی نوازا گیا۔
عہدہ چھوڑنے کے بعد فیسٹس موگائے نے ساؤتھ سوڈان کے امن عمل کی نگرانی کرنے والے مشترکہ مانیٹرنگ کمیشن کی سربراہی بھی کی، جہاں انہوں نے امن کوششوں میں اہم کردار ادا کیا۔







