ریو پولیس ماضی میں بھی بڑے بین الاقوامی ایونٹس سے قبل جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف بڑے آپریشنز کرتی رہی ہے۔ شہر نے 2016 کے اولمپکس، 2024 کے جی 20 اجلاس اور جولائی میں ہونے والے برکس سربراہ اجلاس کی میزبانی کی تھی۔ اگلے ہفتے ریو میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے دنیا بھر کے میئرز کا سی 40 گلوبل سمٹ اور پرنس ولیم کا ارتھ شاٹ پرائز ایونٹ ہوگا، جس میں گلوکارہ کائیلی منوگ اور فارمولا ون کے چار مرتبہ عالمی چیمپئن سیباستین ویٹل سمیت کئی مشہور شخصیات شریک ہوں گی۔
یہ تمام پروگرام نومبر میں برازیل کے ایمیزون شہر بیلم میں ہونے والے اقوام متحدہ کے موسمیاتی سربراہ اجلاس COP30 کی تیاریوں کا حصہ ہیں۔
ریو کے گورنر کلاؤڈیو کاسترو کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں چار پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ یہ ہلاکتیں شہر کی تاریخ کے سب سے خونریز پولیس آپریشن سے دوگنی ہیں۔ کاسترو نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر کہا کہ "ہم منشیاتی دہشت گردی کے خلاف ثابت قدم ہیں۔" ان کے مطابق یہ کارروائی 2,500 سیکیورٹی اہلکاروں پر مشتمل تھی جو شہر کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب الیماؤ اور پینیا فویلا کمپلیکسز میں تعینات کیے گئے۔
ریو کی فویلاز پہاڑی اور سمندری کناروں پر واقع گنجان آباد غریب علاقے ہیں۔ منگل کی صبح شہر کی فضا میں دھواں پھیل گیا جب مسلح گروہوں نے بکتر بند گاڑیوں کی پیش قدمی روکنے کے لیے گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ پولیس کی جانب سے جاری ویڈیوز میں دکھایا گیا کہ مشتبہ افراد ڈرونز کے ذریعے دستی بم پھینک رہے ہیں جبکہ کئی مسلح افراد جنگل کی سمت فرار ہو رہے تھے۔
شدید جھڑپوں کے بعد پولیس نے درجنوں افراد کو حراست میں لیا۔ ایک اسپتال کے باہر زخمیوں کے لواحقین روتے ہوئے اپنے پیاروں کی خیریت معلوم کر رہے تھے۔
ریو کی ریاستی حکومت نے کہا کہ یہ کارروائی کمینڈو ورمیلیو گینگ کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی کارروائی تھی۔ وفاقی وزیرِ انصاف ریکارڈو لیوانڈوسکی نے بتایا کہ صوبائی حکام نے اس "خونریز" کارروائی سے قبل وفاق سے کوئی مدد نہیں مانگی تھی اور وہ صورتحال کو میڈیا رپورٹس کے ذریعے دیکھ رہے تھے۔
جھڑپوں کے باعث درجنوں اسکولوں اور اسپتالوں کی سرگرمیاں معطل ہو گئیں، بسوں کے روٹس تبدیل کر دیے گئے اور شہر کے مختلف علاقوں میں ٹریفک جام ہو گیا۔
کاسترو کے مطابق 81 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ پولیس نے 250 سرچ اور گرفتاری وارنٹس کے تحت منشیات فروشوں اور ان کے مالیاتی نیٹ ورک کو نشانہ بنایا۔
تاہم بعض سماجی تنظیموں نے فوجی طرز کی اس کارروائی میں بھاری جانی نقصان پر تنقید کی۔ سیکیورٹی تھنک ٹینک ’سو دا پاز‘ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیرولینا ریکارڈو نے کہا کہ "یہ ایک مکمل ناکام حکمتِ عملی ہے، کیونکہ یہ منشیات کی پیداوار کے اصل نظام کو نشانہ نہیں بناتی۔"







