حکومت کے مطابق ان نئے منصوبوں کے تحت ایپل اور گوگل جیسی کمپنیوں کو اسمارٹ فونز اور ٹیبلٹس پر ایسے تکنیکی ٹولز فعال کرنے چاہئیں جو بچوں کے لیے فحش تصاویر کی نشاندہی اور انہیں بلاک کر سکیں۔
بالغ افراد اب بھی عمر کی تصدیق کے عمل کے ذریعے عریاں مواد تیار، شیئر یا دیکھ سکیں گے۔
اسٹارمر نے لندن ٹیک ویک میں ایک تقریر کے دوران کہا: "آج میں اس ملک میں کام کرنے والی ٹیک کمپنیوں سے مطالبہ کر رہا ہوں کہ وہ ایسے ڈیوائس کنٹرولز متعارف کرائیں جو بچوں کو جنسی طور پر واضح تصاویر بھیجنے اور موصول کرنے سے روکیں۔ یہ کوئی ناممکن چیلنج نہیں ہے۔"
اسٹارمر کے اس اعلان کے ساتھ جاری کردہ ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر کمپنیوں نے تین ماہ کے اندر اقدام نہ اٹھایا، تو حکومت انہیں اس ٹیکنالوجی کو فعال کرنے پر مجبور کرنے کے لیے قانون سازی پیش کرے گی۔
مزید پڑھیں: وائٹ ہاؤس کے اے آئی پالیسی مشیر کرشنن مستعفی ہو گئے
سرکاری بیان میں مزید کہا گیا: "اس میں کمپنیوں کے لیے جرمانے بھی شامل ہوں گے۔ کوئی بھی آپشن رد نہیں کیا گیا، اور آخری حربے کے طور پر حکومت اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ آیا اس کا دائرہ کار تعمیل نہ کرنے والے ٹیک سربراہان کے خلاف مجرمانہ ذمہ داری تک بڑھایا جا سکتا ہے یا نہیں۔"







