عالمی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کو جمعرات کے روز ٹیمز ویلی پولیس کے تفتیش کاروں نے حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی۔

پولیس نے اس ماہ اعلان کیا تھا کہ وہ اس الزام کی تحقیقات کر رہی ہے کہ اینڈریو نے بطور تجارتی ایلچی خدمات انجام دیتے ہوئے جیفری ایپسٹین کو سرکاری دستاویزات فراہم کیں۔

اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ماضی میں ایپسٹین سے متعلق کسی بھی غیر قانونی عمل کی تردید کرتے رہے ہیں اور انہوں نے اپنی دوستی پر افسوس کا اظہار کیا تھا، تاہم امریکی حکومت کی جانب سے حالیہ دستاویزات جاری ہونے کے بعد انہوں نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

واضح رہے کہ یہ گرفتاری شاہی خاندان کے کسی سینئر رکن کی اس نوعیت کی پہلی گرفتاری ہے۔

دوسری جانب بادشاہ چارلس نے اپنے بیان میں کہا کہ اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کے بارے میں سرکاری عہدے میں بدانتظامی کے شبہے کی خبر گہری تشویش کا باعث ہے۔ حکام کو شاہی خاندان کی مکمل اور بھرپور حمایت حاصل رہے گی۔ قانون کو اپنا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قانونی کارروائی کے دوران مزید تبصرہ کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

خیال رہے کہ جیفری ایپسٹین سے متعلق تین ملین سے زائد صفحات پر مشتمل دستاویزات جاری ہونے کے بعد اینڈریو ماؤنٹ بیٹن کے خلاف پولیس میں نئی شکایت درج کرائی گئی تھی۔ ان دستاویزات میں مبینہ طور پر یہ اشارہ دیا گیا کہ 2010 میں انہوں نے ویتنام، سنگاپور اور دیگر ممالک کے سرکاری دوروں سے متعلق رپورٹس ایپسٹین کو بھیجی تھیں۔

بکنگھم پیلس نے پہلے بھی کہا تھا کہ وہ کسی بھی پولیس تحقیقات میں مکمل تعاون کرے گا اور بادشاہ چارلس نے اینڈریو کے طرزِ عمل سے متعلق سامنے آنے والے الزامات پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔