برطانوی وزیرِاعظم سر کیئر اسٹارمر نے پیرس میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی رہنما اس خبر کا خیرمقدم کرتے ہیں کہ ایران آبنائے ہرمز کو کھول رہا ہے، تاہم انہوں نے زور دیا کہ یہ ایک دیرپا اور قابلِ عمل حل ہونا چاہیے۔

فرانسیسی صدر سے ملاقات کے بعد برطانوی وزیراعظم نے بتایا کہ تقریباً ایک درجن ممالک پہلے ہی اس مشن میں حصہ لینے پر آمادگی ظاہر کر چکے ہیں اور مزید ممالک کو بھی شمولیت کی دعوت دی جا رہی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ دونوں ممالک جس کثیرالملکی سیکیورٹی مشن کی قیادت کریں گے، وہ مکمل طور پر پُرامن اور دفاعی نوعیت کا ہوگا، جس کا بنیادی مقصد تجارتی بحری راستوں کو محفوظ بنانا، بحری جہازوں کو تحفظ فراہم کرنا اور ممکنہ بارودی سرنگوں (مائنز) کی صفائی کے اقدامات میں معاونت کرنا ہے۔

برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز عالمی تیل اور تجارتی ترسیل کے لیے ایک نہایت اہم آبی گزرگاہ ہے، جس میں کسی بھی رکاوٹ یا خطرے کی صورت میں عالمی معیشت متاثر ہو سکتی ہے، اس لیے اس راستے کی حفاظت ناگزیر ہے۔

خیال رہے کہ آج ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کیا ہے، جسے صدر ٹرمپ نے اہم اور خوش آئند پیش رفت قرار دیتے ہوئے پاکستان کے سپہ سالار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کا خصوصی شکریہ ادا کیا ہے۔