برطانوی وزیرِاعظم سر کیئر اسٹارمر نے پیرس میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی رہنما اس خبر کا خیرمقدم کرتے ہیں کہ ایران آبنائے ہرمز کو کھول رہا ہے، تاہم انہوں نے زور دیا کہ یہ ایک دیرپا اور قابلِ عمل حل ہونا چاہیے۔
فرانسیسی صدر سے ملاقات کے بعد برطانوی وزیراعظم نے بتایا کہ تقریباً ایک درجن ممالک پہلے ہی اس مشن میں حصہ لینے پر آمادگی ظاہر کر چکے ہیں اور مزید ممالک کو بھی شمولیت کی دعوت دی جا رہی ہے۔
🚨 JUST IN: 🇬🇧🇨🇵 UK and France have announced they will establish an independent task force to protect commercial ships passing through the Strait of Hormuz and to support mine-clearing operations. pic.twitter.com/x2oCcOzVdm
— GBX (@GBX_Press) April 17, 2026
انہوں نے واضح کیا کہ دونوں ممالک جس کثیرالملکی سیکیورٹی مشن کی قیادت کریں گے، وہ مکمل طور پر پُرامن اور دفاعی نوعیت کا ہوگا، جس کا بنیادی مقصد تجارتی بحری راستوں کو محفوظ بنانا، بحری جہازوں کو تحفظ فراہم کرنا اور ممکنہ بارودی سرنگوں (مائنز) کی صفائی کے اقدامات میں معاونت کرنا ہے۔
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز عالمی تیل اور تجارتی ترسیل کے لیے ایک نہایت اہم آبی گزرگاہ ہے، جس میں کسی بھی رکاوٹ یا خطرے کی صورت میں عالمی معیشت متاثر ہو سکتی ہے، اس لیے اس راستے کی حفاظت ناگزیر ہے۔
خیال رہے کہ آج ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کیا ہے، جسے صدر ٹرمپ نے اہم اور خوش آئند پیش رفت قرار دیتے ہوئے پاکستان کے سپہ سالار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کا خصوصی شکریہ ادا کیا ہے۔







