ڈاؤننگ اسٹریٹ میں ملاقات کے دوران کیئر اسٹارمر نے یوکرینی صدر کو یقین دہانی کرائی کہ توجہ یوکرین پر ہی مرکوز رہنی چاہیے خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
برطانوی وزیراعظم کے دفتر کے مطابق اس ملاقات میں نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے بھی شریک ہوں گے، جہاں یوکرین میں امن کی کوششوں اور روس پر پابندیوں کو برقرار رکھنے پر غور کیا جائے گا۔
دفاعی معاہدے کے تحت یوکرین کی جدید ڈرون ٹیکنالوجی اور جنگی تجربے کو برطانیہ کی صنعتی صلاحیت کے ساتھ ملا کر کم لاگت مگر جدید ہتھیاروں کی تیاری اور فراہمی کو فروغ دیا جائے گا۔
کیئر اسٹارمر نے کہا کہ ڈرونز، الیکٹرانک وارفیئر اور جدید جنگی ٹیکنالوجی اب قومی اور معاشی سلامتی کا اہم حصہ بن چکے ہیں اور مشرق وسطیٰ کی جنگ نے اس کی اہمیت مزید بڑھا دی ہے۔
دوسری جانب زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کی ترجیح واضح ہے کہ زیادہ سکیورٹی اور زیادہ مواقع ، 200 سے زائد یوکرینی ماہرین اس وقت مشرق وسطیٰ میں موجود ہیں جو مختلف ممالک کو ایرانی ڈرونز سے نمٹنے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔
ادھر ترکی کے وزیر خارجہ حاکان فیدان نے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے پیشکش کی ہے کہ ترکی روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات کے اگلے دور کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران جنگ کے باعث نہ صرف یوکرین کے لیے عالمی حمایت متاثر ہو رہی ہے بلکہ امریکا کے فضائی دفاعی ہتھیاروں کے ذخائر بھی کم ہو رہے ہیں، جو یوکرین کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
مزید پڑھیں: نیٹو ممالک نے ایران کے خلاف جنگ میں تعاون نہیں کیا، اب امریکا کو بھی کسی کی ضرورت نہیں، ٹرمپ
زمینی صورتحال کے حوالے سے یوکرین نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی جوابی کارروائیوں نے روس کے ممکنہ حملوں کو سست کر دیا ہے، تاہم روسی حملے بدستور جاری ہیں۔
یوکرینی حکام کے مطابق روس نے ایک رات میں 178 ڈرون حملے کیے، جن میں سے زیادہ تر کو ناکام بنا دیا گیا، جب کہ بعض حملوں میں اوڈیسا اور زاپوریزہیا کے علاقوں میں تنصیبات کو نقصان پہنچا اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔
دوسری جانب روسی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اس نے یوکرین کے 200 سے زائد ڈرونز کو مار گرایا، جن میں سے 40 ماسکو کی جانب بڑھ رہے تھے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے یوکرین کی کارروائیوں کو بے سود مزاحمت قرار دیا ہے۔







