عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق آئی اے ای اے کی رکن ممالک کو پیش کی گئی رپورٹ میں شام کے مشرقی صوبے دیر الزور میں اسرائیلی فضائی حملے میں تباہ کیے گئے مقام پر جوہری ری ایکٹر کی موجودگی کی تصدیق کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مذکورہ مقام سے تقریباً 73 ٹن قدرتی یورینیم بھی برآمد ہوا ہے، جب کہ ری ایکٹر کے لیے ایندھن شام میں ہی تیار کیا گیا تھا۔ آئی اے ای اے کے مطابق شام کی اُس وقت کی حکومت نے ان سرگرمیوں کو عالمی ادارے سے خفیہ رکھا۔

الکبار ری ایکٹر کے نام سے معروف یہ تنصیب ستمبر 2007 میں اسرائیلی فضائی حملے میں تباہ کردی گئی تھی۔ اسرائیل کو شبہ تھا کہ شام شمالی کوریا کی مبینہ مدد سے یہاں پلوٹونیم پر مبنی جوہری ہتھیار کی تیاری کی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

آئی اے ای اے نے 2011 میں بھی خدشہ ظاہر کیا تھا کہ شام میں ممکنہ طور پر شمالی کوریا کی مدد سے جوہری ری ایکٹر تعمیر کیا جارہا ہے۔ تاہم بشارالاسد حکومت نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے عالمی ادارے کے انسپکٹرز کو مزید تحقیقات کی اجازت نہیں دی تھی۔

دسمبر 2024 میں بشارالاسد حکومت کے خاتمے کے بعد احمد الشرع کی قیادت میں قائم نئی عبوری حکومت نے آئی اے ای اے کی ٹیم کو مشتبہ مقامات تک رسائی دی۔

آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی نے ویانا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ری ایکٹر تکمیل کے قریب تھا اور اس نوعیت کا تھا جو فِژن ایبل مواد تیار کرنے کے لیے مؤثر ثابت ہوسکتا تھا، جسے جوہری ہتھیاروں میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔

گروسی کے مطابق یہ واضح ہے کہ بشارالاسد حکومت ان سرگرمیوں کو عالمی برادری سے چھپانا چاہتی تھی۔ انہوں نے شام کی موجودہ حکومت کی جانب سے غیر اعلانیہ مقامات سے متعلق معلومات فراہم کرنے اور عالمی ادارے کو رسائی دینے کے فیصلے کو سراہا۔

اے ایف پی کے مطابق آئی اے ای اے کو دیر الزور میں ری ایکٹر کے علاوہ ایک فیول فیبریکیشن پلانٹ اور ایک دوسرے مقام پر جوہری ایندھن سمیت یورینیم کے فضلے کو ذخیرہ کرنے کے شواہد بھی ملے ہیں۔

تاہم رافیل گروسی نے واضح کیا کہ فی الحال شام کے جوہری پروگرام میں شمالی کوریا کے مبینہ روابط سے متعلق تحقیقات آئی اے ای اے کے موجودہ مینڈیٹ میں شامل نہیں۔

رپورٹ کے مطابق آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کے رواں ہفتے ہونے والے اجلاس میں شام کی جوہری فائل بند کرنے کی قرارداد پر ووٹنگ متوقع ہے، جبکہ عالمی ادارہ جوہری مواد کو محفوظ رکھنے کے لیے شام کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔