برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق ‘ایڈوانسڈ پریکٹیشنرز’ کہلانے والی تجربہ کار نرسیں ایمرجنسی، انتہائی نگہداشت اور نوزائیدہ بچوں کے یونٹس سمیت مختلف شعبوں میں وہ ذمہ داریاں انجام دے رہی ہیں جو عموماً ڈاکٹرز کے سپرد ہوتی ہیں۔ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ تقریباً نصف اسپتال ڈاکٹروں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے اس طریقہ کار پر انحصار کر رہے ہیں۔

برٹش میڈیکل ایسوسی ایشن نے اس عمل کو غیر محفوظ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس سے علاج کے معیار پر منفی اثر پڑ سکتا ہے اور بعض کیسز میں مریضوں کو نقصان یا ہلاکت کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔

دوسری جانب این ایچ ایس انگلینڈ کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ نرسیں اعلیٰ تربیت یافتہ ہوتی ہیں، تاہم انہیں ڈاکٹروں کے متبادل کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بعض اسپتالوں میں یہ نرسیں ڈاکٹروں کے برابر شفٹیں کر رہی ہیں اور ایمرجنسی ڈیوٹی کے دوران ڈاکٹرز جیسے بیجز بھی استعمال کر رہی ہیں، جس سے مریضوں کے لیے فرق کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

اس کے برعکس رائل کالج آف نرسنگ نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایڈوانسڈ نرسیں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور خود مختار پیشہ ور ہیں، جو ڈاکٹروں کی جگہ نہیں بلکہ ایک مربوط طبی ٹیم کا حصہ ہوتی ہیں اور محفوظ خدمات فراہم کرتی ہیں۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال بنیادی مسئلے یعنی ڈاکٹروں کی کمی کا عارضی حل تو ہو سکتی ہے، تاہم اس کے طویل المدتی اثرات اور مریضوں کی سلامتی کے حوالے سے سنجیدہ سوالات اپنی جگہ برقرار ہیں۔