مسلم کونسل آف برطانیہ کی جانب سے جاری نئی رپورٹ کے مطابق انگلینڈ اور ویلز میں مسلمان آبادی کا 6.5 فیصد ہیں، جب کہ ان کی اوسط عمر صرف 27 سال ہے، جو قومی اوسط سے 13 سال کم ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ تقریباً نصف برطانوی مسلمان 25 سال سے کم عمر ہیں، جس کے باعث وہ ملک کی سب سے نوجوان اور تیزی سے بڑھنے والی آبادیوں میں شامل ہو چکے ہیں۔
اگر برطانیہ میں ووٹ ڈالنے کی عمر 18 سے کم کر کے 16 سال کر دی گئی تو تقریباً ڈیڑھ لاکھ نئے مسلم ووٹرز انتخابی عمل کا حصہ بن سکتے ہیں، جس سے سیاسی منظرنامے پر نمایاں اثر پڑنے کا امکان ہے۔
رپورٹ برطانوی مسلمانوں کی تعداد میں 2001، 2011 اور 2021 کی مردم شماری کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا کہ برطانیہ میں مسلمانوں سے متعلق کئی پرانے تصورات اب حقیقت کی عکاسی نہیں کرتے۔
ماہرین نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ مسلمان ایک متحد سیاسی ووٹنگ بلاک ہیں۔ برطانوی مسلمان نسلی، ثقافتی اور سیاسی اعتبار سے انتہائی متنوع ہیں، جن میں پاکستانی، بنگلہ دیشی، صومالی، عرب اور سفید فام برطانوی نومسلم کمیونٹیز شامل ہیں۔
رپورٹ میں برطانوی مسلمانوں کو درپیش معاشی اور سماجی مسائل کی بھی نشاندہی کی گئی۔ اعداد و شمار کے مطابق مسلم خاندانوں میں سنگل پیرنٹ گھروں کی شرح قومی اوسط سے زیادہ ہے، جب کہ مسلمانوں میں گھر کی ملکیت کی شرح صرف 41.5 فیصد ہے، جو قومی اوسط 63 فیصد سے کافی کم ہے۔
ماہرین نے اس صورتحال کو ثقافتی ناکامی کے بجائے ساختی عدم مساوات قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلمان کمیونٹیز روزگار میں امتیازی سلوک، کم معیار رہائش اور کم سرمایہ کاری جیسے مسائل کا سامنا کر رہی ہیں۔
دوسری جانب رپورٹ میں سماجی ترقی کے آثار بھی سامنے آئے ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں میں مسلم خواتین کی معاشی سرگرمیوں میں 37 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جب کہ مسلمانوں میں ڈگری ہولڈرز کی تعداد قومی اوسط کے قریب پہنچ چکی ہے۔ 16 سے 24 سال کی عمر کے مسلمانوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی شرح اب قومی اوسط سے بھی زیادہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق اب اصل سوال یہ نہیں رہا کہ مسلمان برطانوی معاشرے کا حصہ ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ آیا برطانیہ کے ادارے اس بڑی سماجی اور آبادیاتی تبدیلی کے لیے تیار بھی ہیں یا نہیں۔







