امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، تاہم جس حملے کے جواب میں یہ کارروائی کی گئی وہ غیر اہم نوعیت کا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران ایک ایسے معاہدے کے قریب ہیں جو نہ صرف خطے بلکہ لبنان میں بھی امن کے قیام میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، اس لیے تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل یا کسی بھی دوسرے فریق کی جانب سے مزید حملے نہیں ہونے چاہییں کیونکہ موجودہ صورتحال طویل المدتی امن کے قیام کا ایک اہم موقع فراہم کر رہی ہے۔ ٹرمپ نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ اس موقع کو ضائع نہ کیا جائے۔

دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے ضاحیہ پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے امریکا کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ضاحیہ پر اسرائیلی حملے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ امریکا یا تو اپنے وعدوں پر عمل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا یا پھر اس کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو گرین سگنل دے کر کسی قسم کی رعایت یا مراعات حاصل نہیں کی جا سکتیں، جب کہ اچھے اور برے پولیس والے کا پرانا کھیل اب اپنی افادیت کھو چکا ہے۔

ایرانی اسپیکر نے خبردار کیا کہ اگر وعدوں پر عمل کرنے کی نہ خواہش ہو اور نہ ہی صلاحیت، تو پھر مذاکرات یا کسی بھی سفارتی عمل کو آگے بڑھانا ممکن نہیں رہے گا۔