واشنگٹن پوسٹ میں ہفتے کوانٹرنیشنل کنسورشئیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس کے حوالے سے یہ رپورٹ شائع کی ہے۔ کنسورشئیم کو یہ خبر سینٹ کوم کی لیکڈ دستاویزات سے ملی اور اس نے مختلف ذرائع سے اس کی تصدیق کی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان ملکوں میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر، اردن، بحرین اور قطر شامل ہیں۔ اسرائیل اوران چھ ملکوں کے سیکیورٹی حکام کے اجلاس عرب ملکوں میں ہوتے رہے۔
رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ ان ملکوں میں سیکیورٹی تعاون کی وجہ مشترکہ خطرہ یعنی ایران ہے۔
یہ لیکڈ دستاویزات خفیہ نہیں ہیں اورانھیں امریکا، کینیڈا، برطانیہ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سے بھی شئیر کیا گیا تھا۔
اخبار کے مطابق سب سے متحرک کردار سعودی عرب نے ادا کیا اور اسرائیل کو انٹیلی جنس معلومات فراہم کرتا رہا۔
مزید پڑھیں: ’دو برس دو ہزار برسوں جیسے لگے‘، فلسطینی شہری جنگ بندی کے بعد گھروں کو واپس
یہاں تک کہ جب اہم عرب ریاستوں نے غزہ کی پٹی میں جنگ کی مذمت کی، انہوں نے خاموشی سے اسرائیلی فوج کے ساتھ سیکیورٹی تعاون کو بڑھایا۔
امریکی دستاویزات سے مزید پتا چلتا ہے کہ یہ فوجی تعلقات ستمبر میں قطر پر اسرائیل کے فضائی حملے کے بعد تعطل کا شکار ہوئے، لیکن اب وہ غزہ میں ’نومولود جنگ بندی‘ کی نگرانی میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
گزشتہ تین سالوں کے دوران امریکا کی سہولت سے اسرائیل اور چھ عرب ممالک کے اعلیٰ فوجی حکام بحرین، مصر، اردن اور قطر میں منصوبہ بندی کے سلسلے ملتے رہے۔ اجلاس ہوئے۔







