وائٹ ہاؤس میں امریکی قوم سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ چین امریکی انتخابات کے حوالے سے سرگرم ہے اور وہ ایسے اقدامات کر رہا ہے جن کا مقصد انتخابی عمل پر اثر انداز ہونا ہے، چین نہیں چاہتا کہ وہ دوبارہ کامیاب ہوں، اسی لیے مختلف طریقوں سے امریکی عوام کی رائے کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ انہوں نے نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر اور فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کو ہدایت جاری کی ہے کہ چین سے متعلق تمام الزامات اور ممکنہ سائبر سرگرمیوں کی مکمل تحقیقات کی جائیں، اگر کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت کے شواہد ملے تو انہیں عوام کے سامنے لایا جائے گا۔

امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ انتخابات سے متعلق بعض خفیہ انٹیلی جنس دستاویزات کو فوری طور پر ڈی کلاسیفائی کیا جائے تاکہ عوام کو معلوم ہو سکے کہ انتخابی نظام کو کن خطرات کا سامنا رہا ہے، ان دستاویزات کے منظرعام پر آنے سے انتخابی عمل میں موجود خامیاں اور سکیورٹی سے متعلق کمزوریاں بھی واضح ہو جائیں گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر 2020 کے صدارتی انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس انتخابی عمل کے دوران بھی چین نے اثر انداز ہونے کی کوشش کی تھی،  اپنے خطاب میں ان الزامات کے حق میں کوئی نیا عوامی ثبوت پیش نہیں کیا۔

صدر ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ چین نے امریکی عوام میں ان کے خلاف منفی رائے قائم کرنے کے لیے مختلف ذرائع استعمال کیے، امریکا کو اپنی قومی سلامتی اور انتخابی نظام کے تحفظ کے لیے مزید مؤثر اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ مستقبل میں کسی بھی بیرونی مداخلت کا راستہ روکا جا سکے۔

انہوں نے امریکی کانگریس پر زور دیا کہ وہ جلد از جلد ’’ووٹر آئی ڈی سیو امریکا ایکٹ‘‘ منظور کرے تاکہ ووٹنگ کے نظام کو مزید محفوظ اور شفاف بنایا جا سکے۔ ٹرمپ کے مطابق ووٹر شناخت کے سخت قوانین انتخابی عمل پر عوامی اعتماد بحال کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

مزید پڑھیں: ایران کا جے ڈی وینس کو خفیہ پیغام، جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف پر مالی فائدہ اٹھانے کا الزام

اپنے خطاب کے دوران صدر ٹرمپ نے امریکی فوج کو دنیا کی بہترین فوج قرار دیتے ہوئے ملکی سلامتی کے اداروں پر اعتماد کا اظہار بھی کیا۔ انہوں نے میڈیا کے کردار پر بھی تنقید کی اور کہا کہ جو ٹی وی چینلز ان کی تقریر نشر نہیں کرتے، ان کے لائسنس سے متعلق قوانین کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔

صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا میں انتخابی سکیورٹی، سائبر حملوں اور غیرملکی مداخلت کے خدشات پر سیاسی بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جبکہ متعلقہ اداروں کی جانب سے ان الزامات پر مزید تحقیقات کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔