بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر سے ایک صحافی نے سوال کیا کہ کیا چین اور پاکستان ایران کو مبینہ طور پر دفاعی ساز و سامان کی فراہمی میں کردار ادا کر رہے ہیں؟ جس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا کہ چین کی جانب سے ایسی کوئی پیش رفت نہیں کی جا رہی۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ ایران چین سے مختصر فاصلے کے جدید فضائی دفاعی نظام حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان رپورٹس میں چینی ساختہ QW-12 اور FN-16 کندھے پر رکھ کر فائر کیے جانے والے میزائل نظام (MANPADS) کا ذکر کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ ممکنہ طور پر ان کی بڑی تعداد ایران کو فراہم کی جا سکتی ہے۔

تاہم چین نے ان خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔ چینی حکام کا کہنا ہے کہ بیجنگ ہمیشہ خطے میں امن، استحکام اور تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کرتا ہے اور اس نوعیت کی اطلاعات حقائق پر مبنی نہیں ہیں۔

دوسری جانب پاکستان نے بھی ان دعوؤں کی واضح تردید کی ہے کہ اس کی سرزمین کو چین سے ایران تک کسی مبینہ اسلحہ ترسیل کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے،  ایسے دعوے غلط معلومات پر مبنی ہیں اور پاکستان کسی بھی ایسے عمل کا حصہ نہیں جو خطے میں کشیدگی کو بڑھانے کا باعث بنے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بعض حلقوں کی جانب سے چین، پاکستان اور ترکیہ کو ایران کے ساتھ دفاعی تعاون کے حوالے سے جوڑنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، تاہم متعلقہ ممالک ان دعوؤں کو مسترد کر چکے ہیں، خطے کی موجودہ صورتحال میں معلومات کی درستگی اور تصدیق شدہ ذرائع کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

امریکی صدر کے بیان کے بعد یہ معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا ہے، کیونکہ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان پہلے ہی مختلف معاملات پر کشیدگی پائی جاتی ہے، ایسے الزامات اور قیاس آرائیاں علاقائی سفارتی ماحول پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔

مزید پڑھیں: ایران چند ہفتوں میں چین سے سینکڑوں جدید فضائی دفاعی میزائل حاصل کرے گا،رائٹرز کا دعویٰ

پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ خطے میں امن، استحکام اور مذاکرات کے فروغ کا حامی ہے۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ تمام تنازعات کو بات چیت اور سفارتی ذرائع کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، جبکہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔

دوسری جانب ایران کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی ان دعوؤں کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے، صورتحال کی مکمل تصویر سرکاری بیانات اور مزید تصدیق شدہ معلومات سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔