چینی صدر نے یہ بات چین اور روس کے درمیان تجارت، ٹیکنالوجی، سائنسی تحقیق سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے لیے معاہدوں کے ایک سلسلے پر دستخط کی تقریب کے دوران کہی۔
یاد رہے کہ بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان ملاقاتوں کے دوران دونوں ممالک نے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے 20 سے زائد معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔
چینی صدر نے کہا کہ چین اور روس کے درمیان تعلقات مسلسل مضبوط ہو رہے ہیں اور اب یہ جامع اسٹریٹیجک پارٹنرشپ کی اعلیٰ سطح تک پہنچ چکے ہیں۔
ان کے مطابق دونوں ممالک نے برابری کی بنیاد پر ایک دوسرے کے ساتھ باہمی احترام کا مظاہرہ کیا ہے اور دوطرفہ تعلقات ایک نئے نقطۂ آغاز میں داخل ہو گئے ہیں۔
شی جن پنگ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ چین اور روس کو تمام سطحوں پر روابط اور تبادلے جاری رکھنے چاہییں۔
President Xi Jinping says China and Russia must support the United Nations and “oppose all acts of unilateral bullying” as he and President Vladimir Putin sign declarations of cooperation in Beijing. pic.twitter.com/mPI4DulJsO
— Al Arabiya English (@AlArabiya_Eng) May 20, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی میں جدت کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دیں گے۔
پوتن اور شی جن پنگ کی دوستی اور مشترکہ مفادات اپنی جگہ، لیکن روس اور چین کے گہرے تعلقات کی اصل وجہ کیا ہے؟
چینی صدر کی گفتگو کے بعد روسی صدر ولادیمیر پوتن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ روس چین کو توانائی کی فراہمی جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت بیرونی دباؤ اور عالمی منڈیوں میں منفی رجحانات سے محفوظ ہے۔
صدر پوتن کے مطابق روس اور چین آزاد خارجہ پالیسیاں اختیار کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور عالمی سطح پر استحکام پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔






