تفصیلات کے مطابق منگل کے روز آبنائے ہرمز کو کھلوانے کی قرار داد کا مسودہ پیش کیا گیا، جس میں رکن ممالک کے درمیان اختلافات دور کرنے کے لیے مذاکرات کے دوران چھ مرتبہ نظرثانی کی گئی، جس کے حق میں 11 ووٹ آئے، جب کہ دو ممالک نے مخالفت کی اور دو نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
بحرین، ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو، ڈنمارک، فرانس، یونان، لٹویا، لائبیریا، پاناما، صومالیہ، برطانیہ اور امریکا نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔
روس اور چین نے قرارداد کے خلاف ووٹ دیتے ہوئے، سلامتی کونسل کے مستقل اراکین کی حیثیت سے اپنے ویٹو اختیار کا استعمال کیا، جس کے باعث اکثریت کی حمایت کے باوجود قرارداد منظور نہ ہو سکی۔
پاکستان اور کولمبیا وہ دو ممالک تھے جنہوں نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
یہ قرارداد امریکا کی جانب سے پیش کی گئی تھی اور اسے خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے رکن ممالک کی حمایت حاصل تھی۔ قرارداد میں خطے میں کشیدگی کم کرنے اور آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، جو ایک اہم بحری گزرگاہ ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل کی بڑی مقدار ترسیل کی جاتی ہے۔
ایران نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی کے بعد آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر بند کر دیا ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق مذاکرات کے کئی ادوار کے بعد مسودے میں چھ ترامیم کی گئیں تاکہ مختلف ممالک کے خدشات کو دور کیا جا سکے، جن میں علاقائی سلامتی کی ضمانتوں اور خلیج میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر کو شامل کیا گیا۔
تاہم ان ترامیم کے باوجود ماسکو اور بیجنگ نے اپنی مخالفت برقرار رکھی اور مؤقف اختیار کیا کہ قرارداد کا مسودہ خطے کی بنیادی صورتحال اور پیچیدہ حقائق کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔







