غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حادثہ 109 منزلہ سی آئی ٹی آئی سی ٹاور کے قریب پیش آیا، جسے چائنا زون کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ عمارت بیجنگ کی بلند ترین عمارتوں میں شمار ہوتی ہے۔

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حادثے کے بعد عمارت سے ملبہ نیچے گر رہا ہے، جب کہ طیارے کا پچھلا حصہ اور زمین پر موجود ایک ٹیکسی کی ٹوٹی ہوئی کھڑکی بھی ویڈیو میں دیکھی جا سکتی ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق حادثے کے فوراً بعد عمارت سے لوگوں کا انخلا شروع کر دیا گیا، جب کہ جائے وقوعہ پر متعدد فائر ٹرک، پولیس گاڑیاں اور ایمبولینسیں پہنچ گئیں۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق متعلقہ حکام اور طیارے کے مالک سے رابطہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ حادثے کی وجوہات اور ممکنہ جانی نقصان کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جا سکیں۔

آن لائن دستیاب تصاویر کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ مقامی طور پر تیار کردہ ہلکا اسپورٹس طیارہ سن ورڈ ایس اے 60 ایل اورورا معلوم ہوتا ہے، جو ایک مقامی جنرل ایوی ایشن کمپنی کی ملکیت بتایا جا رہا ہے۔

پروازوں کی نگرانی کرنے والے ادارے فلائٹ ریڈار 24 کی جانب سے جاری غیر مصدقہ معلومات کے مطابق حادثے سے قبل طیارے کے پروازی راستے میں غیر معمولی تبدیلی دیکھی گئی تھی۔

واضح رہے کہ چین نے یکم مئی سے نئے قوانین کے تحت دارالحکومت بیجنگ میں ڈرونز کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جن کے مطابق حکومتی اجازت کے بغیر شہریوں کو ڈرون خریدنے، کرائے پر لینے یا اڑانے کی اجازت نہیں ہے۔