چینی سرکاری میڈیا کے مطابق مشرقی چین کے شہر نانجنگ میں مختلف سرکاری عہدوں پر خدمات انجام دینے والے 69 سالہ یانگ یولِن کو رشوت لینے، سرکاری فنڈز میں خردبرد، اختیارات کے ناجائز استعمال اور منی لانڈرنگ کے جرائم میں مجرم قرار دیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق یانگ یولِن نے 1993 سے 2023 کے دوران اپنے سرکاری عہدوں کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے مختلف افراد کو ترقیاتی منصوبوں کے ٹھیکے، اراضی کی منتقلی اور مالی معاونت دلوانے کے بدلے بھاری رقوم اور قیمتی تحائف وصول کیے۔

یہ تحقیقات چینی صدر شی جن پنگ کی ملک گیر انسدادِ بدعنوانی مہم کے تحت کی گئیں، جس کے دوران فوج، بینکاری اور دیگر اہم شعبوں کے اعلیٰ حکام کے خلاف بھی کارروائیاں عمل میں لائی گئیں۔

چانگژو شہر کی عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ یانگ یولِن کے جرائم انتہائی سنگین نوعیت کے تھے، جن کے باعث ریاست اور عوام کے مفادات کو غیر معمولی نقصان پہنچا۔

عدالت نے مزید کہا کہ اگرچہ یانگ یولِن نے دورانِ تفتیش حکام سے تعاون کیا اپنے جرائم کا اعتراف کیا اور ندامت کا اظہار بھی کیا، تاہم ان کے جرائم کی سنگینی کے پیشِ نظر سزا میں کسی قسم کی نرمی کی گنجائش نہیں تھی۔

واضح رہے کہ چین میں مالی بدعنوانی جیسے وائٹ کالر جرائم میں سزائے موت کم ہی سنائی جاتی ہے، تاہم ایک ارب یوان سے زائد مالیت کی بدعنوانی کے مقدمات میں عدالتیں یہ سزا سنا چکی ہیں۔

اس سے قبل 2021 میں چین کے سابق مالیاتی ادارے کے سربراہ لائی شیاومِن کو بھی ایک ارب 80 کروڑ یوان رشوت لینے کے جرم میں سزائے موت دی گئی تھی، جس پر بعد ازاں عمل درآمد بھی کیا گیا۔