عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق دھماکے کے وقت کان میں 247 کان کن موجود تھے۔ واقعے کے فوری بعد امدادی اور سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق آپریشن کے دوران 100 سے زائد افراد کو زندہ نکال لیا گیا، جب کہ 128 زخمیوں کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
A gas explosion at a coal mine in Shanxi Province, China killed at least 82 people and left 2 missing on Friday evening.
— Clash Report (@clashreport) May 23, 2026
Of the 247 workers underground at the time, 128 were hospitalized.
Company executives have been detained.
President Xi Jinping ordered an investigation… pic.twitter.com/HFvfWr6UHy
پولیس کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے بیشتر کی حالت زہریلی گیس سے متاثر ہونے کے باعث تشویشناک ہے، جب کہ ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ابتدائی تحقیقات میں کان کے اندر کاربن مونو آکسائیڈ گیس کی خطرناک حد تک موجودگی سامنے آئی ہے، جو دھماکے کی ممکنہ وجہ قرار دی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ چین میں کوئلے کی کانوں میں بڑے حادثات کی طویل تاریخ رہی ہے۔ 2009 میں شمال مشرقی صوبے ہیلونگ جیانگ کی ایک کان میں دھماکے کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اسی طرح 2023 میں اندرونی منگولیا کی ایک اوپن پٹ کان کے انہدام سے 53 کان کن جان کی بازی ہار گئے تھے۔






