چینی سرکاری ٹی وی سی سی ٹی وی نے ہفتے کو رپورٹ کیا کہ یہ خوفناک حادثہ جمعے کی رات قینیوان کاؤنٹی میں واقع ’لیوشینیو کول مائن‘ میں پیش آیا۔

چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق دھماکے کے وقت تمام مزدور کان کے اندر ڈیوٹی پر موجود تھے۔

صدر شی جن پنگ نے حکام کو ہدایت جاری کی ہے کہ زخمیوں کے علاج اور لاپتا افراد کی تلاش کے لیے تمام ممکنہ وسائل استعمال کیے جائیں اور ریسکیو آپریشن میں کوئی کوتاہی نہ برتی جائے۔

چینی صدر نے حادثے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے جامع تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کا بھی حکم دیا ہے۔

وزیراعظم لی چیانگ نے بھی صدر کی ہدایات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ حادثے سے متعلق معلومات بروقت اور شفاف انداز میں عوام تک پہنچائی جائیں اور ذمہ دار افراد کا سخت احتساب کیا جائے۔

قینیوان کی مقامی ایمرجنسی مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق امدادی سرگرمیاں تاحال جاری ہیں جبکہ دھماکے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران سخت حفاظتی قوانین اور بہتر حفاظتی اقدامات کے ذریعے کان کنی کے شعبے میں حادثات کی شرح کم کی ہے، تاہم ’لیوشینیو‘ کان کا یہ حادثہ گزشتہ 10 برس کے مہلک ترین واقعات میں شمار کیا جا رہا ہے۔

شنہوا کے مطابق کان چلانے والی کمپنی کے چند اعلیٰ عہدیداروں کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ ابتدائی رپورٹس میں ہلاکتوں کی تعداد صرف 8 بتائی گئی تھی جبکہ 200 سے زائد مزدوروں کو بحفاظت نکال لیا گیا تھا، تاہم بعد میں مرنے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ سامنے آیا، جس کی تفصیلات حکام نے جاری نہیں کیں۔