تفصیلات کے مطابق  کانگریس کو پیش کی گئی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین کی تاریخی رفتار سے جاری فوجی تعمیر و توسیع نے امریکی سرزمین کو پہلے سے زیادہ خطرات کا سامنا کرا دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق چین نہ صرف روایتی فوجی طاقت میں اضافہ کر رہا ہے بلکہ اس کے جوہری ہتھیاروں اور جدید اسٹریٹجک نظاموں کی ترقی کی رفتار بھی غیر معمولی ہے۔

 پینٹاگون کا اندازہ ہے کہ چین کے پاس 2024 تک تقریباً 600 جوہری وارہیڈز موجود تھے اور اس کا منصوبہ ہے کہ 2030 تک وارہیڈز کی تعداد ایک ہزار سے زائد ہو جائے۔

دستاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چین کے تیزی سے پھیلتے ہوئے میزائل نظام، جدید ہائپرسونک ہتھیار اور خلا میں عسکری سرگرمیاں امریکی دفاعی توازن کے لیے سنجیدہ چیلنج بن چکے ہیں۔

دوسری جانب چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لین جیان نے رپورٹ کے مندرجات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا چین کے میزائل سسٹمز کو جواز بنا کر اپنے جوہری پروگرام کی جدید کاری تیز کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ چین جوہری ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہ کرنے کی پالیسی پر سختی سے قائم ہے اور اپنی قومی سلامتی کے لیے صرف کم سے کم دفاعی صلاحیت برقرار رکھتا ہے۔