تفصیلات کے مطابق کانگریس کو پیش کی گئی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین کی تاریخی رفتار سے جاری فوجی تعمیر و توسیع نے امریکی سرزمین کو پہلے سے زیادہ خطرات کا سامنا کرا دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق چین نہ صرف روایتی فوجی طاقت میں اضافہ کر رہا ہے بلکہ اس کے جوہری ہتھیاروں اور جدید اسٹریٹجک نظاموں کی ترقی کی رفتار بھی غیر معمولی ہے۔
The Pentagon on Tuesday released its latest edition of report on the capabilities of the Chinese military, reportedly claiming that the Chinese military is in the midst of a “historic military buildup” that has made the US homeland “increasingly vulnerable,” according to media… pic.twitter.com/t6eMHQlcVO
— Global Times (@globaltimesnews) December 24, 2025
پینٹاگون کا اندازہ ہے کہ چین کے پاس 2024 تک تقریباً 600 جوہری وارہیڈز موجود تھے اور اس کا منصوبہ ہے کہ 2030 تک وارہیڈز کی تعداد ایک ہزار سے زائد ہو جائے۔
دستاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چین کے تیزی سے پھیلتے ہوئے میزائل نظام، جدید ہائپرسونک ہتھیار اور خلا میں عسکری سرگرمیاں امریکی دفاعی توازن کے لیے سنجیدہ چیلنج بن چکے ہیں۔
دوسری جانب چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لین جیان نے رپورٹ کے مندرجات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا چین کے میزائل سسٹمز کو جواز بنا کر اپنے جوہری پروگرام کی جدید کاری تیز کر رہا ہے۔
🇨🇳 Pentagon: China’s Military Buildup Makes US More Vulnerable
— Defence Index (@Defence_Index) December 24, 2025
China’s rapid military expansion, informed by Russia’s experience in Ukraine, is increasing pressure on Taiwan. The report warns that the US homeland is becoming increasingly exposed, posing challenges for nuclear… pic.twitter.com/ndfgvTBRyl
ان کا کہنا تھا کہ چین جوہری ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہ کرنے کی پالیسی پر سختی سے قائم ہے اور اپنی قومی سلامتی کے لیے صرف کم سے کم دفاعی صلاحیت برقرار رکھتا ہے۔






