گزشتہ سال چین کی آبادی میں مسلسل چوتھے سال کمی واقع ہوئی، کیونکہ شرحِ پیدائش ریکارڈ سطح تک کم رہی۔ یہ بات پیر کو جاری ہونے والے سرکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوئی، جب کہ ماہرین نے آئندہ مزید کمی کا انتباہ دیا ہے۔

ملک کی آبادی 3.39 ملین کی کمی کے ساتھ 1.405 بلین ہو گئی، جو 2024 کے مقابلے میں تیز تر کمی ہے، جب کہ پیدائش کی مجموعی تعداد 2025 میں 7.92 ملین تک گر گئی، جو 2024 میں 9.54 ملین کے مقابلے میں 17 فیصد کم ہے۔

چین کی آبادی 2022 سے سکڑ رہی ہے اور تیزی سے عمر رسیدہ ہو رہی ہے، جس کے باعث بیجنگ کے قومی پیداوار میں اضافے اور قرضوں پر قابو پانے کے منصوبے مزید مشکل ہو رہے ہیں۔

این بی ایس کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 60 سال سے زائد عمر کے افراد کی تعداد کل آبادی کے تقریباً 23 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

اگلے دس برسوں میں 60 سال سے زائد عمر کے افراد کی تعداد 400 ملین تک پہنچنے کا امکان ہے، جو امریکا اور اٹلی کی مشترکہ آبادی کے تقریباً برابر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لاکھوں افراد ایسے وقت میں افرادی قوت کو چھوڑنے کے قریب ہوں گے، جب پنشن کے بجٹ کے لیے رقم پہلے ہی ناکافی ہے۔

چین نے پہلے ہی ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافہ کر دیا ہے، جو اب مردوں کے لیے 63 سال اور خواتین کے لیے 58 سال مقرر کی گئی ہے۔

چین میں 2024 کے دوران شادیوں میں نمایاں کمی آئی اور شادی کے لیے 6.1 ملین سے زائد جوڑوں نے اندراج کرایا، جب کہ 2023 میں یہ تعداد 7.68 ملین تھی۔

چین میں شادیاں عام طور پر شرحِ پیدائش کے لیے ایک اہم اشاریہ سمجھی جاتی ہیں۔

ماہرینِ آبادی کے مطابق مئی 2025 میں جوڑوں کو صرف اپنی رہائش کی جگہ کے بجائے ملک میں کہیں بھی شادی کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا، جس سے شرحِ پیدائش کو عارضی طور پر فروغ ملنے کا امکان ہے۔

حکام ’شادی اور بچے پیدا کرنے کے بارے میں مثبت خیالات‘ کو فروغ دینے کی بھی کوشش کر رہے ہیں، کیونکہ وہ 1980 سے 2015 تک نافذ رہنے والی ایک بچہ پالیسی کے اثرات کو زائل کرنے کے خواہاں ہیں۔ یہ پالیسی غربت اور مالی مسائل سے نمٹنے کے لیے متعارف کرائی گئی تھی، تاہم اس کے نتیجے میں چینی خاندانوں اور معاشرتی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔

آبادی کی نقل مکانی کے باعث بڑی تعداد میں لوگ دیہی علاقوں سے شہروں کی جانب منتقل ہوئے، جہاں بچوں کی پرورش کے اخراجات کہیں زیادہ ہیں، جس سے آبادی کا چیلنج مزید سنگین ہو گیا۔ اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں چین میں شہری آبادی کی شرح 68 فیصد رہی، جب کہ 2005 میں یہ تقریباً 43 فیصد تھی۔

پالیسی سازوں نے آبادی کی منصوبہ بندی کو ملک کی اقتصادی حکمتِ عملی کا کلیدی حصہ بنا لیا ہے اور خبررساں ادارے رائٹرز کے اندازوں کے مطابق اس سال بیجنگ کو شرحِ پیدائش میں اضافے کے لیے تقریباً 180 بلین یوآن (25.8 بلین ڈالر) کے ممکنہ اخراجات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

اہم اخراجات قومی چائلڈ سبسڈی پر متوقع ہیں، جو گزشتہ سال پہلی بار متعارف کرائی گئی تھی، اور اس کے تحت بچوں کی پیدائش اور پرورش کے اخراجات کے لیے حکومت مالی معاونت فراہم کرے گی۔

چین میں شرحِ پیدائش دنیا میں کم ترین سطح پر ہے، جہاں فی عورت اوسطاً تقریباً ایک بچہ پیدا ہو رہا ہے۔ دیگر مشرقی ایشیائی معیشتوں، جن میں تائیوان، جنوبی کوریا اور سنگاپور شامل ہیں، میں بھی زرخیزی کی سطح تقریباً 1.1 بچے فی عورت ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق 15 سے 49 سال کی عمر کو تولیدی عمر تصور کیا جاتا ہے، اور اندازہ ہے کہ چین میں اس عمر کی خواتین کی تعداد اس صدی کے اختتام تک دو تہائی کم ہو کر 100 ملین سے بھی کم رہ جائے گی۔