امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ بیجنگ میں ہونے والی اہم ملاقات کے دوران شی جن پنگ نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پرگفتگو کی اور واضح کیا کہ چین عالمی تجارتی راستوں میں رکاوٹ نہیں چاہتا، آبنائے ہرمز دنیا کی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے اور اگر اسے کھلا رکھنے کے لیے کسی بھی سطح پر تعاون کی ضرورت ہوئی تو چین مثبت کردار ادا کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کی شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات انتہائی خوشگوار اور نتیجہ خیز رہی، جس میں نہ صرف ایران اور مشرق وسطیٰ بلکہ یوکرین جنگ، عالمی معیشت اور ایشیائی خطے کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیااور اس امید کا اظہار بھی کیا کہ امریکا اور چین کے تعلقات مستقبل میں مزید مضبوط ہوں گے۔
آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟
آبنائے ہرمز کو دنیا کی سب سے اہم بحری گزرگاہوں میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل عالمی منڈیوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ خلیجی ممالک سے یورپ، ایشیا اور دیگر خطوں کو تیل اور گیس کی ترسیل کا بڑا حصہ اسی راستے سے ہوتا ہے، اسی لیے اس خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت کو متاثر کر سکتی ہے۔
حالیہ دنوں میں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر خدشات پیدا ہوئے تھے کہ اگر صورتحال خراب ہوئی تو آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر ہو سکتی ہے، جس سے تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ اور عالمی تجارتی بحران جنم لے سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ واشنگٹن نے چین سے کسی قسم کی مدد طلب نہیں کی، تاہم امریکا اور چین کے درمیان اس معاملے پر مشترکہ سمجھ بوجھ ضرور موجود ہے۔
ایک امریکی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا اپنے مفادات اور اتحادیوں کے تحفظ کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، تاہم اگر عالمی استحکام کے لیے بڑی طاقتیں مثبت کردار ادا کریں تو یہ خوش آئند بات ہوگی۔
مزید پڑھیں: چین اور امریکا کے تعلقات تعاون، باہمی احترام اور عالمی استحکام کے لیے نہایت اہم ہیں: چینی صدر
ٹرمپ کا دورۂ چین
صدر ٹرمپ اس وقت چین کے سرکاری دورے پر موجود ہیں جہاں انہوں نے بیجنگ کے گریٹ ہال آف دی پیپل میں چینی قیادت کے ساتھ اعلیٰ سطحی مذاکرات کیے۔ ملاقات کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ چین اور امریکا دنیا کی دو بڑی طاقتیں ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات عالمی امن اور معاشی استحکام کے لیے ضروری ہیں۔
چینی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ کی تازہ صورتحال، یوکرین جنگ، شمالی کوریا اور عالمی تجارتی معاملات پر تفصیلی بات چیت کی۔
ٹرمپ کی پاکستان کی تعریف
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے پاکستانی قیادت، خصوصاً فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خطے میں امن کے لیے بہترین کردار ادا کیا۔
چین کا پاکستان کے کردار کا اعتراف
چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے بھی ٹیلیفونک گفتگو میں اسحاق ڈار کو خطے میں پاکستان کی مصالحانہ کوششوں پر خراج تحسین پیش کیا۔ چینی قیادت نے کہا کہ پاکستان نے کشیدگی کم کرنے اور خطے میں استحکام کے فروغ کے لیے مثبت کردار ادا کیا ہے۔
پاکستان کی سفارتی کوششیں بھی نمایاں
ادھر پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھنے کا اعادہ کیا ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اسلام آباد میں ایک علاقائی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور مذاکرات کے فروغ کے لیے متحرک کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں متوازن اور فعال سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے اور خطے میں کسی بھی ممکنہ تنازع کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
مزید پڑھیں: چینی صدر نے ٹرمپ کا استقبال بچوں سے کیوں کروایا؟
ذرائع کے مطابق پاکستان نے حالیہ مہینوں میں ایران اور امریکا کے درمیان بیک ڈور سفارت کاری میں اہم کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے نمائندوں کے درمیان اسلام آباد میں براہ راست رابطے بھی ہوئے۔
واضح رہے کہ امریکا، چین، ایران اور پاکستان کے درمیان حالیہ سفارتی سرگرمیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ عالمی طاقتیں مشرق وسطیٰ میں کسی بڑے بحران سے بچنے کے لیے سرگرم ہو چکی ہیں، جبکہ پاکستان اس تمام صورتحال میں ایک اہم سفارتی پل کے طور پر ابھرتا دکھائی دے رہا ہے۔







