الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق بیجنگ میں معمول کی پریس بریفنگ کے دوران چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے ایران کو فضائی دفاعی میزائل بھیجنے سے متعلق رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ چین اس معاملے پر متعدد مواقع پر اپنا مؤقف واضح کر چکا ہے اور یہ خبریں درست اور حقائق پر مبنی نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بیجنگ ہمیشہ امن کے قیام اور تنازع کے خاتمے کے لیے کام کرتا ہے۔
قبل ازیں بعض رپورٹس میں پاکستان کو بطور ٹرانزٹ روٹ بھی ذکر کیا گیا تھا، تاہم اس دعوے کی بھی تردید کی گئی۔ پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے ترک خبر ایجنسی انادولو سے گفتگو میں کہا تھا کہ اس حوالے سے تمام قیاس آرائیاں بے بنیاد اور حقیقت کے برعکس ہیں۔
#FMsays FM spokeswoman Mao Ning rejected a report claiming that #Iran is expected to receive a first shipment out of up to 400 Chinese-made shoulder-fired air-defence missile launchers, saying it is not true and has no factual basis. Mao added that China always works for peace… pic.twitter.com/OOK2HAqJyX
— China Daily (@ChinaDaily) July 30, 2026
آئی ایس پی آر نے ان خبروں کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا تھا۔
یاد رہے کہ غیر ملکی خبر ایجنسی رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران کو آئندہ چند ہفتوں میں چین کے تیار کردہ 400 کندھے پر رکھ کر چلائے جانے والے فضائی دفاعی میزائل لانچر موصول ہونے والے ہیں۔
رپورٹ میں نام ظاہر نہ کرنے والے سرکاری ذرائع کے حوالے سے یہ بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ ابتدائی کھیپ چین کے مغربی شہر ارومچی سے فضائی راستے کے ذریعے روانہ کی جانی تھی اور پاکستان سے گزر کر ایران پہنچنی تھی، تاہم اب چین اور پاکستان دونوں نے ان رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔






