میڈیا رپورٹس کے مطابق قومی سلامتی کونسل کے سربراہ جوزف وو نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یہ تعیناتی حالیہ دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد سامنے آئی ہے۔
جوزف وو نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ عالمی اسٹیٹس کو کو نقصان پہنچانے اور علاقائی امن و استحکام کو خطرے میں ڈالنے والا واحد مسئلہ چین ہے۔
تائیوان کے ایک سیکیورٹی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ بیجنگ میں ہونے والے سربراہی اجلاس سے قبل بھی چینی جہازوں کی موجودگی کا پتہ چلا تھا، تاہم حالیہ دنوں میں ان کی تعداد 100 سے تجاوز کر گئی ہے۔
BIG: Taiwan s National Security Council chief Joseph Wu says China has deployed over 100 vessels — including navy and coast guard ships — across the First Island Chain, from the Yellow Sea to the South China Sea.
— Clash Report (@clashreport) May 23, 2026
Wu described China as the main disruptor of regional stability. pic.twitter.com/StZ019Oyap
واضح رہے کہ چین تائیوان کو اپنی سرزمین کا حصہ قرار دیتا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ آیا وہ تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کے معاملے پر تائیوان کے صدر لائی چنگ ٹے سے بات کریں گے؟ اس پر ٹرمپ نے جواب دیا کہ وہ ان سے بات کریں گے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میں سب سے بات کرتا ہوں۔ میرے سرکاری دورے کے دوران شی جن پنگ کے ساتھ بہت اچھی ملاقات ہوئی۔






