میڈیا رپورٹس کے مطابق قومی سلامتی کونسل کے سربراہ جوزف وو نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یہ تعیناتی حالیہ دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد سامنے آئی ہے۔

جوزف وو نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ عالمی اسٹیٹس کو کو نقصان پہنچانے اور علاقائی امن و استحکام کو خطرے میں ڈالنے والا واحد مسئلہ چین ہے۔

تائیوان کے ایک سیکیورٹی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ بیجنگ میں ہونے والے سربراہی اجلاس سے قبل بھی چینی جہازوں کی موجودگی کا پتہ چلا تھا، تاہم حالیہ دنوں میں ان کی تعداد 100 سے تجاوز کر گئی ہے۔

واضح رہے کہ چین تائیوان کو اپنی سرزمین کا حصہ قرار دیتا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ آیا وہ تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کے معاملے پر تائیوان کے صدر لائی چنگ ٹے سے بات کریں گے؟ اس پر ٹرمپ نے جواب دیا کہ وہ ان سے بات کریں گے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میں سب سے بات کرتا ہوں۔ میرے سرکاری دورے کے دوران شی جن پنگ کے ساتھ بہت اچھی ملاقات ہوئی۔