سزا پانے والا ملزم چائنا ہوارونگ انٹرنیشنل ہولڈنگز میں جنرل مینیجر کے عہدے پر فائز تھا، جو چین کے سب سے بڑے سرکاری اثاثہ جاتی انتظامی اداروں میں شمار ہوتا ہے۔
چینی میڈیا کے مطابق بی ٹینھی نے 2014 سے 2018 تک 156 ملین ڈالرز سے زائد رشوت لینے کا اعتراف کیا تھا۔ اس سنگین بدعنوانی کے کیس میں مئی 2024 میں عدالت نے انہیں سزائے موت سنائی تھی۔
Gou Zhongwen, the former #sports minister, has been sentenced to death with a two-year reprieve for #bribery of 236 million yuan (US$ 33.2 million). #China pic.twitter.com/2yVbslXHgl
— Shanghai Daily (@shanghaidaily) December 8, 2025
ملزم نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی تاہم چینی سپریم کورٹ نے اسے مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ جرم کی سنگینی، ریاستی نقصانات اور عہدے کا غلط استعمال سزائے موت کو برقرار رکھنے کا جواز ثابت کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سابق ایگزیکٹو کو منگل کی صبح شہر تیآنجن میں اپنے قریبی رشتہ داروں سے آخری ملاقات کی اجازت دینے کے بعد سزائے موت دی گئی۔
اس سے قبل اسی کمپنی کے سابق چیئرمین لائی شمن کو بھی جنوری 2021 میں 253 ملین ڈالرز کی رشوت لینے پر سزائے موت دی گئی تھی، جب کہ کمپنی کے کئی دیگر عہدیداران بھی بدعنوانی کی تحقیقات کی زد میں ہیں۔






