برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، بیجنگ کے دو روزہ دورے سے واپسی پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران سے تیل خریدنے والی چینی کمپنیوں پر عائد پابندیاں نرم کرنے یا ختم کرنے پر غور کر رہے ہیں، جبکہ چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار سمجھا جاتا ہے۔
ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ آیا شی جن پنگ نے ایران پر دباؤ ڈال کر آبنائے ہرمز کھلوانے کا وعدہ کیا ہے، تو انہوں نے جواب دیا، ’میں کسی سے فیور نہیں مانگ رہا کیونکہ پھر بدلے میں آپ کو بھی فیور دینا پڑتا ہے۔‘
چینی صدر شی جن پنگ نے ایران کے حوالے سے براہ راست کوئی بیان نہیں دیا، تاہم چین کی وزارت خارجہ نے جنگ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایسا تنازع ہے جو شروع ہی نہیں ہونا چاہیے تھا اور اس کے جاری رہنے کا بھی کوئی جواز نہیں۔
.@POTUS: I went over to where President Xi lives, which is something that rarely happens. People have never seen it before, it s amazing actually. It s a very positive thing to have these two nations getting along. pic.twitter.com/7jFWx9gASF
— Ahmad Shah Mohibi (@WarGuy_) May 15, 2026
ادھر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ باہمی اعتماد کا فقدان ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق، عباس عراقچی نے نئی دہلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’ہمیں امریکی سنجیدگی پر شکوک ہیں، تاہم اگر واشنگٹن منصفانہ اور متوازن معاہدے کے لیے تیار ہو تو مذاکرات آگے بڑھ سکتے ہیں۔‘
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ہفتے کے آغاز میں ایران کی جانب سے بھیجی گئی باضابطہ تجاویز کو ’فضول‘ قرار دیا تھا، حالانکہ اطلاعات کے مطابق ان تجاویز میں ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے بعض رعایتیں دینے کی پیشکش کی تھی۔
دوسری جانب ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کا بنیادی مقصد ایران کی افزودہ یورینیم صلاحیت کو ختم کرنا اور اسے جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا ہے، جبکہ ایران مسلسل یہ مؤقف دہرا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں جبکہ کمزور جنگ بندی کے باوجود خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔ مبصرین خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ صورتحال دوبارہ مشرق وسطیٰ کو کھلی جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز اب بھی ایران کے کنٹرول میں ہے۔ یہ اہم آبی گذرگاہ جنگ سے پہلے عالمی تیل تجارت کے تقریباً پانچ فیصد حصے کے لیے استعمال ہوتی تھی، تاہم ایران نے جنگ شروع ہونے کے بعد اسے بند کر دیا تھا۔
دوسری طرف امریکہ نے ایران کی بندرگاہوں کا محاصرہ کر رکھا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعے کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران چین سمیت دیگر ممالک کی سفارتی حمایت کا خیرمقدم کرے گا۔ انہوں نے اس موقع پر ایران اور سعودی عرب کے تعلقات بحال کرانے میں بیجنگ کے کردار کا بھی حوالہ دیا۔
بیجنگ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے معاملے میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے کی درخواست پر خاص دلچسپی ظاہر نہیں کی، حالانکہ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ صدر شی جن پنگ نے مدد کی پیشکش کی ہے۔
ادھر جمعرات کو پاکستانی حکام نے بتایا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنی ثالثی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں اور نہ ہی یہ واضح کیا گیا کہ امریکہ نے کوئی باضابطہ جواب دیا ہے یا نہیں۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا، ’مذاکرات کا عمل رکا نہیں، امن کوششیں اب بھی جاری ہیں۔‘
اسی سلسلے میں پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی سنیچر کو تہران پہنچے، جہاں وہ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ یہ دورہ بھی پاکستان کی جاری ثالثی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔






