عالمی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق جمعے کو دبئی ایئر شو میں فضائی مظاہرے کے دوران تیجس لڑاکا طیارہ اچانک شعلوں کی لپیٹ میں آکر تماشائیوں کے سامنے گر کر تباہ ہوگیا، جس سے شائقین میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔

انڈین فضائیہ نے اعلان کیا ہے کہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے کورٹ آف انکوائری تشکیل دی جا رہی ہے۔

سرکاری ملکیتی ادارہ انڈین ایروناٹکس یہ طیارہ تیار کرتا ہے، جو جنرل الیکٹرک کے انجن سے چلتا ہے۔ حادثے کے بعد دونوں کمپنیوں نے تحقیقات میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

واضح رہے کہ تیجس، جس کا مطلب سنسکرت میں ’چمک‘ ہے، انڈین فضائیہ کے بیڑے کو جدید بنانے کے منصوبے میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، جو زیادہ تر روسی اور سابق سوویت یونین کے طیاروں پر مشتمل ہے۔

حادثے میں پائلٹ کی ہلاکت نے نہ صرف انڈیا کی دفاعی ٹیکنالوجی کے تشخص کو دھچکا پہنچایا ہے بلکہ گھریلو ساختہ طیارے کو عالمی سطح پر برآمد کرنے کی نئی دہلی کی کوششوں پر بھی منفی اثر ڈالا ہے۔

 ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے عوامی حادثے سے 40 سال کی محنت کے بعد تیار کیے گئے اس منصوبے کی عالمی قبولیت متاثر ہو سکتی ہے۔

ایچ اے ایل نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ واقعہ کمپنی کی کاروباری سرگرمیوں، مالی حیثیت یا مستقبل کی فراہمیوں پر اثرانداز نہیں ہوگا۔

کمپنی کے شیئرز صبح کے وقت تین فیصد تک نیچے آگئے تھے، تاہم بیان کے بعد ان میں مزید کمی نہیں ہوئی۔

یاد رہے کہ جمعے کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر دو بج کر دس منٹ پر یہ طیارہ ہجوم کے سامنے فضائی مظاہرے کے دوران زمین پر گر کر تباہ ہوا اور رن وے کے قریب سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔

حادثے میں پائلٹ ہلاک ہوگیا تھا۔