رپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات میں سوشل میڈیا پر حساس نوعیت کے مواد کی اشاعت یا اس کی دوبارہ شیئرنگ کے معاملے پر حکام نے سخت اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ ایک غیر سرکاری تنظیم کے مطابق اب تک کم از کم 21 افراد کو مختلف الزامات کے تحت حراست میں لیا جا چکا ہے۔
اس حوالے سے تنظیم ڈیٹینڈ اِن دبئی کی چیف ایگزیکٹو رادھا اسٹرلنگ کا کہنا ہے کہ بظاہر ان افراد پر لگائے گئے الزامات کاغذوں میں انتہائی سنگین دکھائی دیتے ہیں، تاہم بعض کیسز میں معاملہ صرف اتنا ہوتا ہے کہ کسی شخص نے پہلے سے سوشل میڈیا پر موجود ویڈیو کو دوبارہ شیئر کر دیا یا اس پر تبصرہ کر دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ امارات کے سائبر کرائم قوانین کے تحت نہ صرف وہ شخص ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے جو اصل مواد اپ لوڈ کرتا ہے بلکہ وہ تمام افراد بھی قانونی کارروائی کی زد میں آ سکتے ہیں جو اس ویڈیو کو دوبارہ پوسٹ کریں، شیئر کریں یا اس پر کمنٹ کریں۔ اس طرح ایک ہی ویڈیو درجنوں افراد کے خلاف مقدمات کا باعث بن سکتی ہے۔
ان قوانین کے تحت سزا میں دو سال تک قید، تقریباً 5 ہزار 500 سے 55 ہزار ڈالر تک جرمانہ اور غیر ملکی شہریوں کی صورت میں ملک بدری بھی شامل ہو سکتی ہے۔
رادھا اسٹرلنگ نے خبردار کیا کہ غیر ملکی شہریوں اور سیاحوں کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ جو سوشل میڈیا سرگرمیاں دنیا کے دیگر ممالک میں معمول سمجھی جاتی ہیں، وہ متحدہ عرب امارات میں قانون کی خلاف ورزی تصور کی جا سکتی ہیں اور اس کے نتیجے میں گرفتاری بھی ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق بعض حالات میں حقائق واضح ہونے سے پہلے ہی افراد کو قومی سلامتی کے تناظر میں مشتبہ سمجھا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب ایک 60 سالہ برطانوی سیاح کے خلاف بھی سائبر کرائم قوانین کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس شخص پر الزام ہے کہ اس نے شہر کے اوپر سے گزرنے والے ایرانی میزائلوں کی ویڈیو بنائی اور اسے محفوظ یا شیئر کیا۔
اس معاملے پر برطانوی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات میں ایک برطانوی شہری کی حراست کے معاملے پر مقامی حکام سے رابطے میں ہیں اور صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ادھر برطانیہ میں تعینات اماراتی سفیر نے ایک ریڈیو انٹرویو میں کہا کہ متحدہ عرب امارات ایک محفوظ ملک ہے اور وہاں کے قوانین کا مقصد شہریوں اور غیر ملکیوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے، ایسے واقعات کے دوران ویڈیو بنانے والے افراد پر گرنے والا ملبہ بھی ان کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کے بعد خطے کے دیگر ممالک میں بھی اسی نوعیت کے اقدامات دیکھنے میں آئے ہیں۔ رادھا اسٹرلنگ کے مطابق قطر میں بھی جنگی صورتحال کے بعد ایسے قوانین کے تحت 200 سے زائد افراد کے خلاف مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔
دریں اثنا متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایران پر ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد سے مبینہ طور پر ایران کی جانب سے اب تک تقریباً 1,800 ڈرونز اور میزائل امارات کی سمت فائر کیے جا چکے ہیں۔
حکام کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد متاثر ہوئے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق امارات، پاکستان، نیپال اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے کم از کم 6 افراد ہلاک جبکہ 141 افراد معمولی سے درمیانی نوعیت کے زخمی ہوئے ہیں۔
واضع رہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سیکیورٹی قوانین مزید سخت کیے جا رہے ہیں اور حکومتیں سوشل میڈیا پر حساس معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کر رہی ہیں۔ ایسے میں سیاحوں اور غیر ملکی شہریوں کو مقامی قوانین سے آگاہ رہنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ کسی غیر ارادی قانونی مشکل سے بچ سکیں۔







