غیرملکی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق عدالت کے جج ربیع الحق عالم نے کہا کہ حسینہ، جو گزشتہ سال بغاوت کے بعد انڈیا میں جلاوطنی میں ہیں، نے بطور وزیر اعظم اپنی طاقت کا ناجائز استعمال کیا۔ جب کہ ان کی بھانجی پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنی والدہ شیخ ریحانہ اور دو بہن بھائیوں کے لیے زمین کے پلاٹس حاصل کرنے میں حسینہ کو غیر قانونی طریقے سے متاثر کیا۔
شیخ ریحانہ کو بھی غیر موجودگی میں سات سال قید کی سزا سنائی گئی اور تینوں پر 100,000 ٹکا ($820) جرمانہ عائد کیا گیا۔ اگر جرمانہ ادا نہ کیا گیا تو اضافی چھ ماہ قید ہوگی۔ مقدمے میں شامل چودہ دیگر افراد کو بھی پانچ سال قید کی سزائیں دی گئیں۔
اینٹی کرپشن کمیشن کے پراسیکیوٹر خان مینول حسن کے مطابق صدیق کی حسینہ کے پرنسپل سیکرٹری صلاح الدین احمد کے ساتھ مبینہ خطوط نے ان کی ملوثیت کو واضح کیا۔ پراسیکیوٹر نے کہا کہ صدیق ٹولپ نے اپنی والدہ اور بہن بھائیوں کے لیے پلاٹس مختص کرنے کی درخواست کی اور اس دوران ڈھاکا میں بھی احمد سے ملاقات کی۔
حسینہ اور صدیق نے وکیل تعینات نہیں کیے اور الزامات کو سیاسی طور پر ہدف بنایا گیا قرار دیا۔ حسینہ نے ایک بیان میں کہا کہ کوئی ملک بدعنوانی سے آزاد نہیں، لیکن بدعنوانی کی تحقیقات خود بدعنوانی کے بغیر ہونی چاہیے۔
مزید پڑھیں: یورپ بھر میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف لاکھوں افراد کا احتجاج: غزہ، غزہ- پیرس تمھارے ساتھ ہے
صدیق نے الزامات کو سیاسی ہتھکنڈا قرار دیا اور سابقہ طور پر برطانیہ میں اپنے وزیرانہ عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ برطانیہ اور بنگلادیش کے درمیان کوئی حوالگی کا معاہدہ نہیں ہے۔
مزید برآں ایک اور عدالت نے حسینہ کو غیر موجودگی میں 21 سال قید کی سزائیں سنائیں، جب کہ ان کے بیٹے اور بیٹی کو بھی پانچ سال قید کی سزا دی گئی، جس میں وہی ڈھاکا ٹاؤن شپ پروجیکٹ شامل تھا۔







