عرب نیوز کے مطابق یہ پیش رفت عمان کے وزیر خارجہ کے اس بیان کے بعد سامنے آئی، جو کئی دہائیوں سے جاری کشیدگی کے تناظر میں ممکنہ تصادم کو روکنے کے لیے ہونے والے تازہ دورِ مذاکرات کے اختتام پر جاری کیا گیا۔ یہ بات چیت عمان کی ثالثی میں ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف سخت بیانات دے چکے ہیں اور گزشتہ ہفتے تہران کو معاہدے کے لیے پندرہ دن کی مہلت بھی دی تھی۔
ایران کا مؤقف ہے کہ مذاکرات کو صرف اس کے جوہری پروگرام تک محدود رکھا جائے، جبکہ امریکہ چاہتا ہے کہ ایران کے میزائل پروگرام اور خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت کا معاملہ بھی زیر بحث آئے۔
عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ آج کا دن امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں نمایاں پیش رفت کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ آئندہ ہفتے ویانا میں تکنیکی سطح پر مزید بات چیت ہوگی۔
امریکی اور ایرانی وفود نے صبح سخت سکیورٹی کے حصار میں عمان کے سفیر کی رہائش گاہ پر ملاقات کی، جس کے بعد دونوں فریقین نے اپنے اپنے دارالحکومتوں سے مشاورت کے لیے وقفہ لینے کا فیصلہ کیا۔ وقفے کے بعد دونوں ممالک کے سفارتی مشنز کی گاڑیاں دوبارہ اسی مقام پر پہنچتی دیکھی گئیں۔
گزشتہ ہفتے کے مذاکرات کے دوران جلاوطن ایرانیوں کے احتجاج اور ایرانی وفد کے قافلے پر اشیاء پھینکے جانے کے واقعے کے بعد اس بار سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے تھے۔
ذرائع کے مطابق اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے سربراہ رافیل گروسی بھی اس عمل میں شریک ہوئے۔ ایرانی سرکاری ٹی وی کے نمائندے نے بھی ان کی شرکت کی تصدیق کی۔
ادھر وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کی مذاکراتی ٹیم ایران سے مطالبہ کرے گی کہ وہ اپنے تین بڑے جوہری مراکز ختم کرے اور باقی ماندہ افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کرے۔
مذاکرات سے قبل ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے واضح کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کے درپے نہیں ہے۔ انہوں نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی قیادت پہلے ہی اعلان کر چکی ہے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہوں گے۔







