سعودی عرب کے مقدس شہر مکہ مکرمہ میں عازمین حج کی بڑی تعداد منیٰ کے وسیع خیمہ بستی میں منتقل ہونا شروع ہوگئی ہے، جہاں سفید احرام میں ملبوس حجاج روح پرور مناظر پیش کر رہے ہیں۔ زائرین بسوں اور پیدل سفر کے ذریعے منیٰ پہنچ رہے ہیں جبکہ مسجد الحرام اور خانہ کعبہ کے اطراف عبادات کا سلسلہ دن رات جاری ہے۔

سعودی حکام کے مطابق رواں سال 15 لاکھ سے زائد غیر ملکی عازمین حج سعودی عرب پہنچ چکے ہیں اور مزید زائرین کی آمد کا سلسلہ جاری ہے،  گزشتہ برس کے مقابلے میں اس سال بیرون ملک سے آنے والے حجاج کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں ایران اور دیگر علاقائی تنازعات کے باعث پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال بھی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ بندی اور آبنائے ہرمز سے متعلق بیانات نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ اسی تناظر میں سعودی عرب نے حج سیکیورٹی کو غیر معمولی سطح پر سخت کر دیا ہے۔

سعودی وزارت دفاع نے جدید فضائی دفاعی نظام کی ویڈیوز جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ مقدس مقامات کی فضائی نگرانی اور ہر ممکن خطرے سے نمٹنے کے لیے خصوصی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ وزارت دفاع کے مطابق عازمین حج کے تحفظ اور ان کے پُرسکون ماحول میں عبادات کی ادائیگی کو یقینی بنانا اولین ترجیح ہے۔

ادھر مختلف ممالک سے آنے والے حجاج نے امید ظاہر کی ہے کہ خطے میں جلد امن قائم ہوگا۔ مصر سے تعلق رکھنے والے ایک حاجی محمد شاہدہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنگیں پوری دنیا کو متاثر کرتی ہیں اور ہر انسان امن چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حج مسلمانوں کو اتحاد، بھائی چارے اور صبر کا درس دیتا ہے۔

رواں سال حج سخت گرمی میں ادا کیا جا رہا ہے اور محکمہ موسمیات نے درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کی پیشگوئی کی ہے۔ شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے سعودی حکومت نے مسجد الحرام اور دیگر مقامات پر واٹر مسٹ فینز، ٹھنڈے پانی اور طبی مراکز سمیت خصوصی سہولیات فراہم کی ہیں۔

حجاج کرام کا کہنا ہے کہ تمام مشکلات اور عالمی حالات کے باوجود ان کے چہروں پر خوشی اور روحانی سکون نمایاں ہے۔ مراکش سے تعلق رکھنے والے 68 سالہ جریش محمد نے کہا کہ وہ کئی دہائیوں سے حج کا خواب دیکھ رہے تھے اور اس سال ان کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش پوری ہوگئی۔

مکہ مکرمہ، منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں سیکیورٹی، صفائی، ٹرانسپورٹ اور طبی سہولیات کے لیے ہزاروں اہلکار تعینات کیے گئے ہیں تاکہ لاکھوں عازمین حج کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جا سکے۔