عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق ٹرمپ کی صدر شی جن پنگ سے تین ہفتے بعد جنوبی کوریا میں ملاقات متوقع تھی، تاہم انہوں نے سوشل میڈیا پر الزام لگایا کہ چین نایاب معدنی عناصر پر پابندیاں بڑھا کر عالمی معیشت کو "یرغمال" بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

امریکی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ اب اس ملاقات کا کوئی جواز باقی نہیں رہا، جب کہ بیجنگ نے اس ملاقات کی باضابطہ تصدیق بھی نہیں کی تھی۔

ٹرمپ نے کہا کہ وہ چینی مصنوعات پر عائد ٹیرف میں “بڑی اور فیصلہ کن” اضافہ کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان تجارتی جنگ کو دوبارہ بھڑکا سکتا ہے جو رواں سال کے آغاز میں عارضی طور پر رکی تھی۔

ٹرمپ کے بیان کے بعد عالمی مالیاتی منڈیاں لرز گئیں، امریکی ایس اینڈ پی 500 انڈیکس 2 فیصد گر گیا جو اپریل کے بعد سب سے بڑی کمی تھی، جب کہ سرمایہ کاروں نے سونا اور امریکی بانڈز خرید کر محفوظ سرمایہ کاری کی طرف رخ کر لیا۔

فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز سے وابستہ ماہر کریگ سنگلٹن نے کہا کہ ٹرمپ کا بیان ٹیرف ٹرِیوس کے خاتمے کی شروعات ہوسکتا ہے۔ بیجنگ نے اپنے فیصلوں سے واشنگٹن کو دھوکہ دہی کا احساس دلایا ہے۔


ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہاکہ اگر چین اپنے جاری کردہ دشمنانہ حکم نامے پر قائم رہتا ہے تو میں بطور صدر امریکا ان کے ہر اقدام کا مالیاتی جواب دوں گا، جس عنصر پر انہوں نے اجارہ داری قائم کی، ہمارے پاس اس کا دوگنا متبادل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میری شی جن پنگ سے دو ہفتوں بعد اے پیک اجلاس میں ملاقات طے تھی، لیکن اب اس کی کوئی ضرورت نظر نہیں آتی۔

یہ حالیہ بیان گزشتہ چار ماہ میں واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان تعلقات میں سب سے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے اور اس سے یہ سوال پیدا ہو گیا ہے کہ آیا دونوں ممالک کے درمیان معاشی مفاہمت برقرار رہ پائے گی یا نہیں۔

واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس اور واشنگٹن میں موجود چینی سفارت خانے نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ماہرین کے مطابق حالیہ کشیدگی اس وقت مزید بڑھی جب امریکی حکومت نے چینی ایئرلائنز کے روس کے اوپر سے گزرنے والے فضائی راستوں پر پابندی کی تجویز دی اور ایف سی سی نے امریکی آن لائن پلیٹ فارمز سے چینی الیکٹرانک مصنوعات کی لاکھوں لسٹنگز حذف کر دیں۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ کو امن نوبیل پرائز کے لیے منتخب نہ کرنے پر وائٹ ہاؤس کی سخت تنقید

چین نے جمعرات کو نایاب معدنی عناصر کی برآمدی فہرست میں پانچ نئے عناصر شامل کیے اور درجنوں ریفائننگ ٹیکنالوجیز پر بھی کنٹرول سخت کر دیا۔

ماہرین کے مطابق چین دنیا کے 90 فیصد سے زائد پروسیس شدہ Rare Earths تیار کرتا ہے جو الیکٹرک گاڑیوں، جہازوں کے انجنوں اور فوجی ریڈارز میں استعمال ہوتے ہیں۔

اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ٹرمپ نے اپنے اعلان پر عمل کیا تو عالمی مارکیٹوں میں نئی تجارتی جنگ شروع ہوسکتی ہے، جس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر پڑیں گے۔