اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ امریکا ایران میں اپنی فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے لیے ایک نئی اور زیادہ معقول حکومت کے ساتھ سنجیدہ بات چیت کر رہا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق اس حوالے سے نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم اگر کسی وجہ سے جلد معاہدہ طے نہ پایااور اگر آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کاروبار کے لیے کھلا نہ کیا گیا تو امریکا ایران میں اپنے قیام کا اختتام سخت کارروائی کے ذریعے کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایسی صورت میں ایران کے بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس، تیل کے کنوؤں اور جزیرہ خارگ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔

امریکی صدر نے ان ممکنہ حملوں کو اپنے فوجیوں اور دیگر افراد کے لیے بدلہ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ایران نے گزشتہ 47 برسوں میں دہشت گردی کے دور کے دوران ان کو قتل کیا اور یہ ان کا بدلا ہوگا۔