عالمی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی میڈیا کی مکمل توجہ کے باوجود اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف نسل کش جنگ جاری رکھے ہوئے ہے، جہاں اب تک 71 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جب کہ سوڈان میں 2023 سے جاری جنگ میں عام شہریوں کے قتل عام کا سلسلہ تاحال نہیں رکا۔

اس کے علاوہ میانمار، نائجیریا، یوکرین، ایتھوپیا، ہیٹی اور یمن سمیت کئی ممالک میں بھی شہری آبادی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یوکرین میں ڈرون حملوں کے ذریعے غیر جنگجو شہریوں کو نشانہ بنانا عام ہو چکا ہے، جب کہ متعدد تنازعات میں شہریوں کے قتلِ عام بغیر کسی مؤثر احتساب کے جاری ہیں۔

جنیوا اکیڈمی کے مطابق امریکا، جو ماضی میں خود کو عالمی پولیس مین قرار دیتا رہا، اب عالمی انسانی قوانین کے نفاذ میں پسپائی اختیار کر چکا ہے، جس سے ان قوانین کی حیثیت مزید کمزور ہو گئی ہے۔

جولائی 2024 سے دسمبر 2024 تک دنیا کے 23 تنازعات کا احاطہ کرنے والی رپورٹ ’وار واچ‘ میں کہا گیا ہے کہ 2024 اور 2025 کے سال عام شہریوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوئے اور جنگی فریقین کی جانب سے مظالم محدود کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آئی۔

اکیڈمی کے مطابق قتل، تشدد، زیادتی، گھروں، اسکولوں اور اسپتالوں پر بمباری کئی خطوں میں منظم انداز میں کی گئی۔ اقوامِ متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن نے غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی کارروائیوں کو نسل کشی قرار دیا، جب کہ اکتوبر 2025 میں سوڈان میں بھی نسل کشی کے خدشات دوبارہ سامنے آئے۔

 یہ بھی پڑھیں: گرین لینڈ میں کسی بھی امریکی ہتھیاروں کی تعیناتی کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں، روس

رپورٹ کے مرکزی مصنف اسٹیورٹ کیسی میسلن نے کہا ہے کہ جب غیر قانونی اقدامات پر نہ پابندیاں لگائی جائیں اور نہ ہی ان کے نتائج واضح ہوں، تو ایسے جرائم جاری رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سوڈان میں ریپڈ سپورٹ فورسز کی جانب سے اجتماعی زیادتیوں اور قتل عام کے باوجود عالمی طاقتوں کی خاموشی تشویشناک ہے۔

رپورٹ میں روس پر بھی یوکرین میں بین الاقوامی انسانی قوانین کو منظم انداز میں نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے، جب کہ امریکا کی جانب سے غزہ جنگ میں اسرائیل کی غیر مشروط حمایت کو عالمی انسانی قوانین کی ساکھ کے لیے شدید نقصان دہ قرار دیا گیا ہے۔

انسانی حقوق کے معروف وکیل جیفری نائس نے کہا ہے کہ بین الاقوامی انسانی قانون طویل عرصے سے دم توڑ رہا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیاں اس زوال کو مزید تیز کر رہی ہیں۔ ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کے بجائے اپنی ذاتی اخلاقیات کو فیصلہ کن سمجھتے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عالمی انسانی قوانین کا نظام مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس اور انٹرنیشنل کریمنل کورٹ جیسے ادارے اب بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، بشرطیکہ انہیں تسلیم کیا جائے اور ان کی حمایت جاری رہے۔

رپورٹ کے مطابق اگر عالمی انسانی قانون کمزور پڑتا رہا تو سب سے زیادہ نقصان گلوبل ساؤتھ کو انسانی جانوں کی صورت میں ہوگا، جب کہ مغربی دنیا اپنی اخلاقی برتری کھو دے گی۔

جنیوا اکیڈمی نے خبردار کیا کہ اگر بین الاقوامی انسانی قانون ختم ہوا تو اس کا نقصان پوری دنیا کو ہوگا۔