بظاہر یہ ایک تکنیکی یا انتظامی معاملہ دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے پیچھے خطے کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال، ایران کے ساتھ کشیدگی، فضائی دفاعی حکمت عملی اور عالمی سفارت کاری کے کئی پہلو جڑے ہوئے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اسرائیل امریکا سے یہ مطالبہ کیوں کر رہا ہے اور اس کے خطے پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟

بن گوریون ائیرپورٹ کیوں اہم ہے؟

تل ابیب کے قریب واقع بن گوریون ائیرپورٹ اسرائیل کا سب سے بڑا اور مصروف ترین بین الاقوامی ہوائی اڈہ ہے۔ ہر سال کروڑوں مسافر اسی ائیرپورٹ کے ذریعے اسرائیل آتے اور جاتے ہیں۔

یہ نہ صرف اسرائیل کی عالمی تجارت اور سیاحت کا مرکزی دروازہ ہے بلکہ ہنگامی حالات میں ملک کا اہم ترین لاجسٹک مرکز بھی سمجھا جاتا ہے۔

ایران کے ساتھ حالیہ تنازع کے دوران امریکا نے اسرائیل کی مدد کے لیے متعدد فوجی اثاثے خطے میں تعینات کیے تھے، جن میں فضائی ایندھن فراہم کرنے والے بڑے طیارے بھی شامل تھے۔

ان میں سے کئی طیارے بن گوریون ائیرپورٹ پر موجود رہے، جس کے باعث ہوائی اڈے کی گنجائش متاثر ہونے لگی۔

اسرائیل کی اصل تشویش کیا ہے؟

اسرائیلی حکام کے مطابق امریکی فوجی طیاروں کی بڑی تعداد کی وجہ سے شہری پروازوں کے آپریشن متاثر ہو رہے ہیں۔ موسمِ گرما کے دوران اسرائیل میں فضائی سفر کا دباؤ بڑھ جاتا ہے اور ہزاروں مسافر روزانہ اس ائیرپورٹ سے سفر کرتے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ اگر فوجی سرگرمیاں اسی سطح پر جاری رہیں تو تجارتی پروازوں کا شیڈول متاثر ہو سکتا ہے، تاخیر بڑھ سکتی ہے اور مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، لیکن صرف یہی مسئلہ نہیں۔

کیا ائیرپورٹ ممکنہ ہدف بن چکا ہے؟

ایران اور اس کے اتحادی گروہوں کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے دوران اسرائیل کو متعدد میزائل اور ڈرون حملوں کے خطرات کا سامنا رہا۔ اگرچہ اسرائیل کا فضائی دفاعی نظام بڑی حد تک حملوں کو ناکام بناتا رہا، تاہم یہ خدشہ برقرار ہے کہ کسی بھی بڑی کشیدگی کی صورت میں بن گوریون ائیرپورٹ دوبارہ نشانہ بن سکتا ہے۔

سکیورٹی ماہرین کا خیال ہے کہ جب کسی شہری ائیرپورٹ پر بڑی تعداد میں غیر ملکی فوجی طیارے موجود ہوں تو اس کی عسکری اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ اس صورت میں دشمن اسے صرف ایک شہری تنصیب نہیں بلکہ ایک فوجی لاجسٹک مرکز بھی تصور کر سکتا ہے۔

اسی لیے بعض اسرائیلی حلقے چاہتے ہیں کہ امریکی فوجی طیاروں کو فضائیہ کے مخصوص فوجی اڈوں پر منتقل کیا جائے تاکہ بن گوریون مکمل طور پر شہری استعمال کے لیے مختص رہے۔

امریکا کے طیارے وہاں کر کیا رہے ہیں؟

جنگ کے دوران امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی تھی۔ اس مقصد کے لیے فضائی ایندھن فراہم کرنے والے کے سی-135 اور دیگر معاون طیارے اسرائیل اور خطے کے مختلف اڈوں پر تعینات کیے گئے۔

ان طیاروں کا بنیادی کام جنگی طیاروں کو دورانِ پرواز ایندھن فراہم کرنا اور طویل فاصلے کے فوجی آپریشنز کی معاونت کرنا ہوتا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ان اثاثوں کا مقصد خطے میں استحکام برقرار رکھنا اور اتحادیوں کو یقین دہانی فراہم کرنا تھا، تاہم اسرائیل اب انہیں نسبتاً کم حساس مقامات پر منتقل کرنے کے حق میں دکھائی دیتا ہے۔

ایران-امریکا مفاہمت اور بدلتی صورتحال

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ حالیہ مفاہمتی عمل کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کا نیا مرحلہ شروع ہونے جا رہا ہے جس میں جوہری پروگرام، پابندیوں اور علاقائی تنازعات پر بات چیت متوقع ہے۔

اگر یہ مذاکرات کامیاب رہتے ہیں تو خطے میں امریکی فوجی موجودگی کی نوعیت بھی تبدیل ہو سکتی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل اسی امکان کو مدنظر رکھتے ہوئے امریکی فوجی اثاثوں کی تدریجی منتقلی چاہتا ہے تاکہ جنگی ماحول کے بجائے معمول کے حالات بحال کیے جا سکیں۔

اسرائیل کے اندر کیا بحث جاری ہے؟

اس معاملے نے اسرائیل کے اندر بھی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک رائے یہ ہے کہ امریکا کی فوجی موجودگی اسرائیل کے لیے سکیورٹی ضمانت کا کردار ادا کرتی ہے، اس لیے اسے کم نہیں ہونا چاہیے۔

دوسری جانب کچھ حلقے سمجھتے ہیں کہ اگر جنگ بندی اور مذاکرات کا عمل آگے بڑھتا ہے تو شہری تنصیبات کو دوبارہ معمول کے مطابق چلانا ضروری ہوگا۔ ان کے مطابق بن گوریون ائیرپورٹ کو مکمل طور پر تجارتی سرگرمیوں کے لیے بحال کرنا اسرائیلی معیشت کے مفاد میں ہے۔

کیا امریکا واقعی ائیرپورٹ خالی کر رہا ہے؟

اب تک امریکا یا اسرائیل کی جانب سے ایسا کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا کہ بن گوریون ائیرپورٹ مکمل طور پر خالی کیا جا رہا ہے یا امریکی افواج اسرائیل چھوڑ رہی ہیں۔

دستیاب اطلاعات کے مطابق گفتگو صرف مخصوص فوجی طیاروں کی منتقلی یا ان کی تعداد میں کمی کے بارے میں ہے۔ اس لیے  ائیرپورٹ خالی کرنے  کی اصطلاح کو مکمل انخلا کے معنوں میں لینا درست نہیں ہوگا۔

خطے کے لیے اس کے کیا معنی ہیں؟

اگر امریکی فوجی اثاثے بن گوریون سے منتقل ہوتے ہیں تو اسے کئی زاویوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک طرف یہ اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ امریکا خطے میں کشیدگی کم ہونے کا انتظار کر رہا ہے یا اپنی عسکری حکمت عملی کو نئے حالات کے مطابق ڈھال رہا ہے۔

دوسری طرف یہ اقدام اسرائیل کی اس کوشش کا حصہ بھی ہو سکتا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے اہم شہری انفراسٹرکچر کو ممکنہ خطرات سے دور رکھنا چاہتا ہے۔

آگے کیا ہو سکتا ہے؟

آنے والے ہفتوں میں امریکا اور ایران کے مذاکرات، لبنان کی صورتحال، آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور اسرائیل کی سکیورٹی پالیسی یہ طے کریں گے کہ بن گوریون ائیرپورٹ کا معاملہ کس سمت جاتا ہے۔

فی الحال ایک بات واضح ہے کہ اسرائیل کا یہ مطالبہ صرف ہوائی اڈے کی پارکنگ یا پروازوں کے شیڈول کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست، سکیورٹی خدشات اور ایران کے ساتھ جاری طاقت کے توازن کی پوری کہانی موجود ہے۔

اسی لیے تل ابیب کے اس ائیرپورٹ پر ہونے والی ہر پیش رفت کو خطے کے بڑے سیاسی اور عسکری منظرنامے سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ آج بن گوریون ائیرپورٹ صرف ایک فضائی مرکز نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری طاقت کی نئی صف بندیوں کی علامت بنتا جا رہا ہے۔