خبر رساں اداروں کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں ایئرپورٹ کے قریبی علاقے سے دھواں اٹھتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم حکام کی جانب سے فوری طور پر کسی ہلاکت یا بڑے نقصان کی تصدیق نہیں کی گئی۔

میڈیا آفس نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ حکام دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے نزدیک اس آگ سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں جو ایک ڈرون حملے کے باعث لگی۔ بیان کے مطابق شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

یہ واقعہ ایران کی جانب سے دی گئی اس وارننگ کے بعد پیش آیا ہے جس میں متحدہ عرب امارات کے تین بڑے ہوائی اڈوں کو خالی کرنے کا کہا گیا تھا اور پہلی مرتبہ پڑوسی ملک میں غیر امریکی اثاثوں کو نشانہ بنانے کے خدشات ظاہر کیے گئے تھے۔

تہران نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکہ متحدہ عرب امارات میں بندرگاہوں اور دیگر مقامات کو استعمال کرتے ہوئے ایران کے تیل کے برآمدی ٹرمینل خرگ کے خلاف حملوں میں مصروف ہے، تاہم اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

متحدہ عرب امارات، جس نے 2020 میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے تھے، ایران کی جانب سے حملوں کا سامنا کر رہا ہے۔ ان حملوں کے اثرات دیگر خلیجی ریاستوں تک بھی پہنچے ہیں اور تمام ممالک نے ایران کے اقدامات کی مذمت کی ہے۔

کویت کے نیشنل گارڈز نے اتوار کو بتایا تھا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دو ڈرونز کو تباہ کیا گیا، جبکہ بحرین کے مطابق ایرانی حملوں کے آغاز کے بعد سے اب تک 125 میزائل اور 212 ڈرونز کو مار گرایا جا چکا ہے۔

28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے خلیجی عرب ریاستوں کو دو ہزار سے زائد میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان حملوں میں نہ صرف امریکی سفارتی مشنز اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا بلکہ خلیجی ممالک میں تیل کے اہم انفراسٹرکچر، بندرگاہیں، ایئرپورٹس، ہوٹلز اور رہائشی و دفتری عمارات بھی متاثر ہوئیں۔