سرکاری خبررساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق میکانزم کمیٹی کے مذاکراتی وفد کے سربراہ سفیر سائمن کرم سے ملاقات کے دوران نواف سلام کا کہنا تھا کہ پہلے مرحلے کی تکمیل میں صرف چند دن باقی ہیں، جس کے بعد حکومت دریائے لیطانی کے شمالی علاقوں میں ہتھیار ضبط کرنے کے دوسرے مرحلے پر عملدرآمد شروع کرے گی، جو لبنانی فوج کے تیار کردہ منصوبے کے مطابق ہوگا۔

وزیراعظم نواف سلام نے اس موقع پر لبنانی فوج کو تمام ضروری مدد فراہم کرنے پر زور دیا تاکہ وہ اپنی قومی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کر سکے اور ریاستی کنٹرول کو یقینی بنایا جا سکے۔

یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب میکانزم کمیٹی کا 15 واں اجلاس جنوبی شہر ناقورہ میں منعقد ہوا، جس میں لبنان، اسرائیل اور امریکا کے نمائندوں نے شرکت کی۔ لبنان میں امریکی سفارتخانے کے مطابق اجلاس کے شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ لبنانی فوج کی صلاحیتوں میں اضافہ جنگ بندی معاہدے کی کامیابی کے لیے ناگزیر ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اجلاس سکیورٹی مذاکرات کے تسلسل کا حصہ ہے، جس کا مقصد لبنانی فوج کے ذریعے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا ہے۔

واضح رہے کہ نومبر 2024 میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت حزب اللہ کو دریائے لیطانی کے جنوب سے ہٹانا، اسے غیر مسلح کرنا اور اسرائیلی فوج کی واپسی شامل تھی، تاہم معاہدے کے باوجود اسرائیل کی جانب سے لبنانی علاقوں میں فضائی حملے بدستور جاری ہیں، جب کہ حزب اللہ مسلسل غیر مسلح ہونے سے انکار کرتا آ رہا ہے۔