عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق طوفان کے بعد صدر فرڈینینڈ مارکوس جونیئر نے جمعرات کو ملک بھر میں قومی ایمرجنسی نافذ کر دی۔

سیبو صوبے میں آنے والے شدید سیلاب نے کاریں، جھونپڑیاں اور حتیٰ کہ بڑے شپنگ کنٹینرز تک بہا دیے۔

فلپائن کے نیشنل سول ڈیفنس آفس نے 114 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے، تاہم صوبائی حکام کے مطابق مزید 28 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔ مجموعی طور پر 127 افراد تاحال لاپتہ ہیں، جن میں زیادہ تر کا تعلق سیبو صوبے سے ہے۔

حکام کے مطابق طوفان سے پانچ لاکھ 60 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہوئے جن میں سے تقریباً چار لاکھ 50 ہزار کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

صدر مارکوس نے ہنگامی اجلاس کے دوران کہا کہ ایمرجنسی کے نفاذ سے حکومت کو فوری امداد، اشیائے خور و نوش کی فراہمی اور مہنگائی کے کنٹرول میں مدد ملے گی۔

دوسری جانب حکام نے خبردار کیا ہے کہ بحرالکاہل سے ایک نیا گردابی طوفان بن رہا ہے جو اگلے ہفتے کے آغاز میں سپر ٹائفون کی شکل اختیار کر کے شمالی فلپائن کو متاثر کر سکتا ہے۔

طوفان سے متاثرہ علاقوں میں لوگ چھتوں پر پناہ لینے پر مجبور ہیں اور بچاؤ کے لیے مدد کی اپیلیں کر رہے ہیں۔

کوسٹ گارڈ نے تمام فیریوں اور ماہی گیری کی کشتیوں کی روانگی پر پابندی لگا دی ہے، جس کے نتیجے میں 3,500 سے زائد مسافر اور کارگو ٹرک تقریباً 100 بندرگاہوں پر پھنس گئے ہیں، جب کہ 186 گھریلو پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں۔

یاد رہے کہ فلپائن ہر سال اوسطاً 20 گردابی طوفانوں کی زد میں آتا ہے۔ ملک کی جغرافیائی ساخت کے باعث یہ زلزلوں اور آتش فشاں سرگرمیوں سے بھی متاثر ہوتا رہتا ہے، جو اسے دنیا کے سب سے زیادہ قدرتی آفات سے متاثرہ ممالک میں شمار کرتا ہے۔