تفصیلات کے مطابق کراچی پریس کلب میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد قدومی نے کہا کہ جنگ بندی کے ذریعے غزہ میں نسل کشی کی مہم روکنے کی کوشش کی گئی ہے، لیکن ابھی تک جنگ بندی قائم کرنے والے تمام ادارے ابہام کا شکار ہیں۔

نجی نشریاتی ادارے اے آر وائے نیوز کے مطابق انہوں نے کہا کہ غزہ امن بورڈ اور دیگر ادارے کس طرح کام کریں گے، یہ اب تک واضح نہیں۔ اسرائیل مسلسل جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور ہر روز غزہ میں معصوم فلسطینیوں کو شہید کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ غزہ پیس بورڈ میں شامل اسلامی ممالک جنگ بندی کی خلاف ورزی کا نوٹس لیں اور اسرائیلی حملے روکیں۔

ڈاکٹر خالد قدومی نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ نے غزہ کے بارے میں انتہائی خوفناک انکشافات کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق غزہ میں ایسے امریکی بم استعمال کیے گئے جو 3500 سینٹی گریڈ تک حرارت پیدا کرتے ہیں، جن کی وجہ سے ہزاروں فلسطینیوں کی لاشیں فضا میں تحلیل ہو گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم غزہ میں پہلے 72 ہزار سے زائد شہید سمجھتے تھے، لیکن اقوام متحدہ کی رپورٹ کے بعد خدشہ ہے کہ فلسطینی شہیدوں کی تعداد دو لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔

مزاحمتی تنظیم کے ترجمان نے کہا کہ غزہ میں اتنی امداد نہیں پہنچ رہی جتنی ضرورت ہے۔ معاہدے کے تحت غزہ میں روزانہ 600 ٹرک امدادی سامان پہنچنا چاہیے، لیکن اسرائیل صرف 50 ٹرکوں کی اجازت دے رہا ہے، جو فلسطینیوں کے لیے کافی نہیں۔ بچوں کو دودھ بھی میسر نہیں اور وہاں پینے کے پانی کی کمی ہے۔ اس وقت ادویات، سرجیکل آلات اور اسپتالوں کی بحالی کے کام کی اشد ضرورت ہے۔

ڈاکٹر خالد قدومی نے کہا کہ ابھی تک اسرائیل پر اتنا دباؤ نہیں ڈالا جا سکا کہ وہ فلسطینیوں کی مکمل امداد بحال کرے۔ جنگ بندی کی وجہ سے حماس پر ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں، لیکن نیتن یاہو کو روکنے والا کوئی نہیں۔

ڈاکٹر خالد قدومی کا کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ بورڈ آف پیس غزہ میں کیا کرے گا جب اقوام متحدہ کچھ نہیں کر سکی؟ بورڈ آف پیس میں یورپ کے بہت سے ممالک اور کئی اسلامی ممالک شریک نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ امن معاہدے کے تحت فلسطینی ٹیکنوکریٹ کی کمیٹی کو غزہ میں خوش آمدید کہا گیا، لیکن اسرائیل کمیٹی کو غزہ میں داخلے سے روک رہا ہے۔ کمیٹی غزہ کی تعمیر نو اور انتخابات کی راہ ہموار کرے گی۔

ڈاکٹر خالد قدومی نے کہا کہ غزہ سے باہر گئے فلسطینی واپس آ رہے ہیں۔ فلسطینی شہید ہو جائیں گے، لیکن کبھی بھی اپنا وطن غزہ نہیں چھوڑیں گے۔