فلسطینی الیکشن حکام کے مطابق یہ انتخابات انتہائی حساس سیاسی اور سیکیورٹی حالات میں منعقد ہوئے، جہاں خطے میں جاری کشیدگی، اندرونی تقسیم اور انتظامی چیلنجز نے انتخابی عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ خاص طور پر غزہ میں اکتوبر 2023 کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد یہ پہلا باقاعدہ انتخابی عمل تھا، جبکہ مجموعی طور پر 2006 کے بعد پہلی بار وہاں کسی سطح پر ووٹنگ دیکھنے میں آئی۔
رپورٹس کے مطابق غزہ میں حکمران تنظیم حماس نے نہ تو باضابطہ طور پر انتخابات میں حصہ لیا اور نہ ہی اپنے امیدوار میدان میں اتارے، جبکہ مغربی کنارے میں بھی اس نے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔ اس صورت حال نے انتخابی نتائج اور ووٹر ٹرن آؤٹ پر واضح اثر ڈالا۔
🚨 REPORT: PA PRESIDENTS FATAH PARTY LOSES IN FIRST ELECTIONS IN 20 YEARS
— Mossad Commentary (@MOSSADil) April 25, 2026
Reports indicate that Mahmoud Abbas’s Fatah faction has suffered losses in the latest municipal elections across Judea and Samaria. YOU THINK HE WILL STEP DOWN?
Independent lists and smaller factions… pic.twitter.com/obRoBzn5po
مرکزی غزہ کے علاقے دیر البلح میں ہونے والی ووٹنگ کو علامتی اہمیت حاصل تھی، جس کا مقصد یہ پیغام دینا تھا کہ غزہ فلسطینی ریاست کے مستقبل کا لازمی حصہ ہے۔ ابتدائی نتائج کے مطابق یہاں 15 نشستوں میں سے فتح اور فلسطینی اتھارٹی کی حمایت یافتہ فہرست نے 6 نشستیں حاصل کیں، جبکہ ایک دوسری مقامی فہرست، جسے سیاسی مبصرین حماس سے قریب سمجھتے ہیں، صرف 2 نشستوں پر کامیاب ہو سکی۔
باقی نشستیں دو آزاد اور مقامی گروپوں کے حصے میں آئیں جو کسی بڑی سیاسی جماعت سے باضابطہ وابستگی نہیں رکھتے تھے۔ انتخابی حکام کے مطابق غزہ میں ووٹر ٹرن آؤٹ صرف 23 فیصد رہا، جبکہ مغربی کنارے میں یہ شرح نسبتاً بہتر یعنی 56 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
واضح رہے کہ غزہ میں کم شرکت کی بڑی وجوہات میں جنگی حالات، بڑے پیمانے پر نقل مکانی، بنیادی انفراسٹرکچر کی تباہی اور ووٹر رجسٹریشن کے پرانے ریکارڈ شامل ہیں، جس نے شہریوں کی انتخابی عمل میں شرکت کو محدود کر دیا۔
دوسری جانب فلسطینی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ انتخابات اگرچہ محدود نوعیت کے تھے، تاہم انہیں آئندہ سیاسی عمل اور بلدیاتی نظام کی بحالی کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطہ شدید سیاسی اور انسانی بحران سے گزر رہا ہے۔







