عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق، اراکینِ پارلیمنٹ نے اپنے خط میں لکھا کہ گزشتہ 789 دن سے جاری نسل کشی اور 58 سال سے فلسطینی علاقوں پر غیر قانونی اسرائیلی قبضے کے تناظر میں یورپی یونین کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کرے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ یورپ مزید شریک جرم نہیں رہ سکتا، وقت آگیا ہے کہ یورپی یونین بین الاقوامی قانون کے مطابق اسرائیل کے خلاف واضح پالیسی اپنائے۔
A group of European Parliament lawmakers called on the EU’s foreign policy chief, Kaja Kallas, to act in line with international law and “end your complicity in the genocide against the Palestinian people,” according to a letter seen by Anadolu on Friday, Anadolu reports.
— Middle East Monitor (@MiddleEastMnt) December 5, 2025
The… pic.twitter.com/iAfa5T1pOj
خط میں یورپی یونین سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ یورپی یونین اسرائیل ایسوسی ایشن معاہدے کو فوری طور پر معطل کیا جائے۔
اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے اور عالمی عدالت انصاف اور انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کے فیصلوں کا احترام کرتے ہوئے ان کی پابندی یقینی بنائی جائے۔
خط میں مزید لکھا گیا کہ فلسطینی انسانی حقوق کی تنظیموں کو تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ غزہ کے لیے امدادی سامان کی ترسیل بغیر رکاوٹ جاری رہ سکے۔
اراکینِ پارلیمان نے اس بات پر زور دیا کہ یورپی یونین کا اسرائیل کے ساتھ تعاون اس وقت تک قابل قبول نہیں ہو سکتا جب تک فلسطینیوں کے خلاف ہونے والی مسلسل انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں، نسل کشی اور غیر قانونی قبضہ ختم نہیں ہوتا۔






