عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق، اراکینِ پارلیمنٹ نے اپنے خط میں لکھا کہ گزشتہ 789 دن سے جاری نسل کشی اور 58 سال سے فلسطینی علاقوں پر غیر قانونی اسرائیلی قبضے کے تناظر میں یورپی یونین کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کرے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ یورپ مزید شریک جرم نہیں رہ سکتا، وقت آگیا ہے کہ یورپی یونین بین الاقوامی قانون کے مطابق اسرائیل کے خلاف واضح پالیسی اپنائے۔

خط میں یورپی یونین سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ یورپی یونین اسرائیل ایسوسی ایشن معاہدے کو فوری طور پر معطل کیا جائے۔

اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے اور عالمی عدالت انصاف اور انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کے فیصلوں کا احترام کرتے ہوئے ان کی پابندی یقینی بنائی جائے۔

خط میں مزید لکھا گیا کہ فلسطینی انسانی حقوق کی تنظیموں کو تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ غزہ کے لیے امدادی سامان کی ترسیل بغیر رکاوٹ جاری رہ سکے۔

اراکینِ پارلیمان نے اس بات پر زور دیا کہ یورپی یونین کا اسرائیل کے ساتھ تعاون اس وقت تک قابل قبول نہیں ہو سکتا جب تک فلسطینیوں کے خلاف ہونے والی مسلسل انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں، نسل کشی اور غیر قانونی قبضہ ختم نہیں ہوتا۔